اب وقت ضائع کیا تو مخالف ٹیم کو ملیں گے 5 رنز: آئی سی سی نے رن آؤٹ قوانین کی بھی وضاحت کردی

دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھیل میں وقت ضائع کرنے والے بیٹرز کیلئے سخت سزا متعارف کرادی ہے، جس کے تحت ایک ہی اننگز میں تیسری مرتبہ مقررہ وقت میں گیند کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہ ہونے پر فیلڈنگ ٹیم کو 5 پنالٹی رنز دیے جائیں گے۔ نئی پلیئنگ کنڈیشنز کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے ہوگیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ تازہ پلیئنگ کنڈیشنز میں وقت ضائع کرنے کے علاوہ خواتین کی کرکٹ کیلئے گیند کے سائز اور وزن کی الگ وضاحت، ڈے ٹیسٹ میں پنک بال کے استعمال اور ملٹی ڈے میچز کے آخری اوور سے متعلق بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

تیسری بار تاخیر، 5 رنز کا جرمانہ

نئے قانون کے تحت اگر بیٹر مقررہ وقت میں اگلی گیند کھیلنے کیلئے تیار نہ ہو اور اس کے نتیجے میں کھیل میں تاخیر ہو تو پہلی مرتبہ اسے وارننگ دی جائے گی۔

دوسری مرتبہ ایسی ہی خلاف ورزی پر فائنل وارننگ دی جائے گی، جبکہ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر امپائر فیلڈنگ ٹیم کے حق میں 5 پنالٹی رنز دے گا۔

مقررہ وقت بنیادی طور پر اس مدت سے متعلق ہے جس میں بولر اور فیلڈنگ ٹیم اگلی گیند کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ عام طور پر جب بولر اپنے رن اپ کے آغاز پر پہنچ چکا ہو تو بیٹر سے گیند کھیلنے کیلئے تیار ہونے کی توقع کی جائے گی۔

البتہ وکٹ گرنے کے بعد نئے بیٹر کو میدان میں آنے اور پہلی گیند کا سامنا کرنے کیلئے پہلے سے موجود دو منٹ کی شرط برقرار رہے گی، بصورت دیگر اسے ٹائم آؤٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔

وارننگ 80 اوورز بعد ری سیٹ

ملٹی ڈے کرکٹ میں یہ وارننگز پوری اننگز کیلئے مستقل نہیں رہیں گی۔ 80 اوورز مکمل ہونے کے بعد وارننگز ری سیٹ ہوجائیں گی اور اسی اننگز کے ہر مزید 80 اوورز کے بلاک کے بعد بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

یعنی کسی بیٹر یا ٹیم کی جانب سے کی گئی تاخیر کا حساب مقررہ 80 اوورز کے بلاک میں رکھا جائے گا۔

خواتین کی کرکٹ کیلئے مخصوص گیند

آئی سی سی نے خواتین کی کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیند کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی کی ہے۔ اب مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کیلئے گیند کے سائز اور وزن کی تین الگ وضاحتیں مقرر کی گئی ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق ماضی میں بعض مینوفیکچررز خواتین اور جونیئر کرکٹ کیلئے ایک ہی سائز کی گیند تیار کرتے تھے، تاہم نئے ضوابط کے بعد تینوں کیٹیگریز کیلئے الگ مخصوص معیار ہوگا۔

آخری اوور سے متعلق اہم وضاحت

ملٹی ڈے کرکٹ میں اگر دن کے آخری اوور کی آخری گیندوں میں وکٹ گر جائے تو صرف اس وجہ سے کھیل لازماً ختم نہیں ہوگا۔ آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ایک وکٹ کا گرنا خود بخود اسٹمپس کا باعث نہیں بنے گا اور آخری اوور مکمل کرنے کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ڈے ٹائم ٹیسٹ میچز میں پنک بال کے دستیاب ہونے کی بھی تصدیق کردی گئی ہے۔

آخری گیند اور رن آؤٹ کے قوانین میں وضاحت

نئے ضوابط میں امپائر کو یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ اختیار دیا گیا ہے کہ گیند کب مکمل طور پر سیٹل ہوچکی ہے۔ خاص طور پر میچ کی آخری گیند پر یہ فیصلہ اہم ہوسکتا ہے۔

اب گیند کا بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا لازمی نہیں کہ اسے مکمل طور پر سیٹل سمجھنے کیلئے واحد شرط ہو۔

آئی سی سی نے رن آؤٹ اور اسٹمپنگ سے متعلق بھی وضاحت کی ہے۔ اب فیلڈر یا وکٹ کیپر کیلئے صرف گیند کو چھونا اور اسی دوران بیلز گرانا کافی نہیں ہوگا، بلکہ گیند پر مکمل کنٹرول ہونا ضروری ہوگا۔

نئی پلیئنگ کنڈیشنز کا مقصد کھیل میں وقت کے بہتر استعمال، مختلف فارمیٹس میں قوانین کی وضاحت اور امپائرز کیلئے بعض پیچیدہ صورتحال میں فیصلہ سازی کو مزید واضح کرنا ہے۔