اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک فوج سعودی سرزمین کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی، تاہم حوثیوں کے خلاف سرحد پار کارروائی نہیں کرے گی۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیابریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے 2 ستمبر کو مدینہ منورہ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب اور اس کے عوام کے دفاع کے حق کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی خاطر خواہ تعداد تعینات ہے، جبکہ فوجی وسائل بھی ریاض میں موجود ہیں۔ پاکستانی فوج سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے ذمہ داریاں انجام دے گی، تاہم حوثیوں کے خلاف کارروائی کی غرض سے سرحد عبور نہیں کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔ اجلاس میں دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ معاہدے میں شمولیت کسی ایک فرد کا یکطرفہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس معاملے پر وزیراعظم کی سربراہی میں حکومتی سطح پر مشاورت کی گئی تھی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے اور امریکا نے بھی ایران کے سات نکات پر اپنا مؤقف شیئر کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پہلے سے موجود ہے اور زیر بحث بعض نکات اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ تنازع کے حل میں پاکستان اور دیگر اہم ممالک کا کردار اب بھی برقرار ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا اور ایران براہ راست بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کریں اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔
بھارت میں پاکستانی ویب سائٹس اور چینلز کی بندش
بھارت میں آزادی اظہار کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکام نے ایسی سوشل میڈیا پوسٹس بلاک کیں جن میں بھارتی فوجیوں کو زندہ دکھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق بھارت میں آزادی اظہار اور مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی گنجائش محدود کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ہزاروں پاکستانی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بلاک ہیں، جبکہ پاکستانی ٹی وی چینلز بھی مکمل طور پر بند ہیں۔ ان کے مطابق راحت فتح علی خان سمیت پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس تک بھی بھارت میں رسائی محدود کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی پابندیوں کے نظام اور متعلقہ بین الاقوامی و قابل اطلاق تجارتی پابندیوں کی پاسداری جاری رکھے گا۔ غیر قانونی ٹرانزٹ روٹس کے ذریعے تجارت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے مخصوص تفصیلات کا علم نہیں، تاہم پاکستان متعلقہ ضوابط کی پابندی کرتا رہے گا۔


