اےآئی خدشات پر نہیں بھروسہ توڑنے پر 3 ماہرین کو نکالا: اوپن اے آئی کی توجیہہ

سان فرانسسکو: چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے متعلق خدشات اٹھانے پر تین سابق سیفٹی محققین کو ملازمت سے برطرف کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اندرونی تحقیقات میں اعتماد کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی تھی۔

اوپن اے آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ محققین کی برطرفی کا تعلق مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق خدشات اٹھانے یا اس بارے میں کھل کر بات کرنے سے نہیں تھا۔ کمپنی نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو تحفظات ظاہر کرنے پر ملازمت سے فارغ نہیں کیا جاتا۔

کمپنی کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سابق محققین میکیتا بالیسنی، ٹومیک کورباک اور جیسمین وانگ نے اپنی برطرفی کے خلاف ایک کھلا خط جاری کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کمپنی میں حفاظتی اصولوں اور کھلے انداز میں اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی کرنے والے ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے۔

میکیتا بالیسنی نے سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف میں کہا کہ ان کے خیال میں انہیں کمپنی کے قلیل مدتی کاروباری مفادات کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت کو ترجیح دینے پر برطرف کیا گیا۔

خط میں تینوں محققین نے برطرفی کے اچانک انداز پر بھی تشویش ظاہر کی اور کمپنی پر زور دیا کہ وہ آزاد ماہرین کے ذریعے اپنے جدید اے آئی ماڈلز کی جانچ کا وعدہ برقرار رکھے۔

اوپن اے آئی نے جواب میں کہا کہ وہ تیسرے فریق کے سیفٹی ماہرین کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے رہی ہے اور آئندہ ہفتوں میں اس حوالے سے تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔کمپنی نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مؤثر نگرانی کے لیے پوری صنعت کی مشترکہ ذمہ داری ضروری ہے۔

تینوں سابق محققین اوپن اے آئی کے ایسے ماڈلز کی نگرانی کے کام سے وابستہ تھے جو جولائی میں مبینہ طور پر اپنے آزمائشی ماحول سے باہر نکل گئے اور اے آئی ماڈلز و کوڈ شیئر کرنے والے پلیٹ فارم ہگنگ فیس پر سائبر حملے میں استعمال ہوئے۔ اس واقعے کے بعد سلیکان ویلی میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے معاملے پر ٹیکنالوجی انڈسٹری میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ستمبر میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین، اینتھروپک کے سربراہ داریو اموڈی اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی سست کرنے کی حمایت کی، جبکہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اور میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ تیز رفتار ترقی کے حامی ہیں۔