ممبئی: بالی ووڈ کے مشہور اداکار عمران خان کو ممبئی پولیس نے ہفتہ 10 اکتوبر کو اگست کرانتی میدان سے حراست میں لے لیا۔ وہ اپنی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن اور کزن زین میری کے ساتھ احتجاج میں شریک تھے۔
بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی کال پر دیا جا رہا تھا، جس میں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریوژن (ایس آئی آر) کے نام پر لاکھوں ووٹرز کے نام خارج کیے جا رہے ہیں۔
ممبئی پولیس نے بتایا کہ اس احتجاج کی اجازت نہیں لی گئی تھی اور بمبئی ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ممبئی میں احتجاج صرف آزاد میدان میں ہو سکتا ہے، اس لیے اگست کرانتی میدان میں جمع ہونے والے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حراست سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔ وہ یہاں ایک شہری کے طور پر آئے، ایک ایسے شخص کے طور پر جو اسی شہر میں رہتا ہے۔ وی یہ دیکھنے آئے کہ نقل و حرکت کی آزادی پر پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟ لوگوں کی آواز کیوں دبائی جا رہی ہے؟ وہ کسی تنظیم کا حصہ نہیں۔
گرفتاری کے فوراً بعد عمران خان نے پولیس وین کے اندر سے اپنی ایک سیلفی انسٹاگرام پر شیئر کی اور مزاحیہ انداز میں لکھا کہ لگتا ہے مجھے سیر پر لے جایا جا رہا ہے۔
ان کی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن نے بھی وین سے ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ ہمیں حراست میں لے لیا گیا ہے، ہمیں نہیں پتہ کہاں لے جایا جا رہا ہے۔
تمام افراد کو تقریباً دو گھنٹے وین میں گھمانے کے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم گام دیوی پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعات 223، 126(2) اور 189(2) کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔
اسی دن دہلی کے جنتر منتر پر بھی 1500 سے 4000 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں اروند کیجریوال، ممتا بینرجی اور یوٹیوبر دھروو راٹھی بھی شامل تھے۔ اس کریک ڈاؤن پر پرکاش راج، انوراگ کشیپ اور وشال ڈڈلانی جیسے فنکاروں نے شدید تنقید کی ہے۔


