واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف کمپنی اینتھروپک کے اندر گزشتہ ایک سال کے دوران ملازمین کی تعداد، کام کرنے کے طریقوں اور بھرتیوں کے رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ کمپنی کی اپنی تازہ رپورٹ کے مطابق اے آئی کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا بلکہ ملازمین کے کردار اور تنظیمی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔
ٹیک کرنچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے دفتری رجحانات اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت معیشت بھر میں کام کی تقسیم، بھرتیوں اور ملازمتوں کی طلب کو کس طرح تبدیل کرے گی۔ کمپنی کے مطابق اس کے کام کرنے کے طریقے پہلے ہی بڑے پیمانے پر اے آئی کے گرد تشکیل پاچکے ہیں۔
رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی اب جونیئر سطح کے ملازمین کم بھرتی کر رہی ہے۔ 2025 کے آغاز میں تکنیکی شعبوں میں جونیئر ملازمین کا تناسب 21 فیصد تھا، جو اب کم ہو کر 14 فیصد رہ گیا ہے۔ نئی جونیئر تکنیکی بھرتیوں میں کمی اس سے بھی زیادہ نمایاں رہی، جہاں ان کا تناسب 27 فیصد سے گھٹ کر صرف 9 فیصد رہ گیا۔
دوسری جانب اینتھروپک کی مجموعی افرادی قوت میں تکنیکی ٹیموں کا حصہ بھی 61 فیصد سے کم ہو کر 56 فیصد ہوگیا۔ کمپنی کے مطابق اس کی ایک وجہ کاروبار کے پھیلاؤ کے ساتھ دیگر شعبوں کا قدرتی طور پر وسیع ہونا ہے، جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جدید کوڈنگ ٹولز غیر تکنیکی ملازمین کو بھی خود سافٹ ویئر تیار کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔
اے آئی کے بڑھتے استعمال نے ملازمین کے روزمرہ کام کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ کمپنی کے ایک ملازم کے مطابق اینتھروپک میں تیزی سے کام مکمل کرنے اور ہر ممکن کام کے لیے کلاڈ استعمال کرنے کا مسلسل دباؤ موجود ہے۔
اپریل 2026 کے ایک سروے میں 27 فیصد ملازمین نے بتایا کہ کلاڈ کے استعمال سے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا، جبکہ 20 فیصد ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کی ملازمت کا کردار حقیقی کام کرنے سے زیادہ کلاڈ کو مینیج کرنے کی جانب منتقل ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں ایک انجینئر نے اے آئی ماڈلز کو مینیج کرنے کے عمل کا موازنہ بچوں کی نگرانی سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہر بچہ اپنی توجہ کا مطالبہ کرتا ہے، اسی طرح مختلف کلاڈ سسٹمز بھی مسلسل توجہ اور نگرانی چاہتے ہیں۔
دلچسپ طور پر کمپنی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اے آئی کی جانب سے بڑی مقدار میں تیار کیا جانے والا مواد اب خود انسانی توجہ اور فیصلہ سازی کو پیداواری صلاحیت کی رکاوٹ بنا رہا ہے۔ یعنی مسئلہ معلومات یا مواد کی کمی نہیں بلکہ اسے پڑھنے، سمجھنے، ترتیب دینے اور درست فیصلے تک پہنچنے کے لیے انسانی وقت کی محدودیت بنتی جا رہی ہے۔
اینتھروپک کے مطابق اے آئی کے استعمال سے کمپنی کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ فی ملازم زیادہ کوڈ لکھا جا رہا ہے، سیلز نمائندے زیادہ سودے مکمل کر رہے ہیں اور زیادہ معاہدوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
تاہم کمپنی نے ساتھ ہی اعتراف کیا کہ زیادہ کوڈ لکھے جانے کا مطلب لازماً بہتر کوڈ یا زیادہ کاروباری فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اسے فی الحال ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ظاہر ہو کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال کے باعث کوڈ کا معیار کم ہوا ہے۔
اے آئی کے بڑھتے کردار کے باوجود انسانی رابطہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ کمپنی کے کیلنڈر ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ایک سال میں فی ملازم میٹنگ کا وقت 20 فیصد بڑھا ہے، جبکہ تکنیکی شعبے کے ملازمین کے لیے اس میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔
اینتھروپک کے مطابق اس اضافے کی وجہ انسانی اعتماد، ذمہ داری اور باہمی رابطے کی اہمیت ہے۔ کمپنی کے ملازمین نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ بعض معاملات میں آمنے سامنے بیٹھ کر رابطہ اور فیصلہ سازی اب بھی ناگزیر ہے۔
یوں اینتھروپک کا تجربہ اے آئی کے مستقبل کی ایک دلچسپ تصویر پیش کرتا ہے.، جہاں مشینیں زیادہ کام کر رہی ہیں، مگر ان کے کام کی نگرانی، جانچ اور فیصلہ سازی کے لیے انسانوں کی ذمہ داری کم ہونے کے بجائے ایک نئے انداز میں بڑھ رہی ہے۔
ساتھ ہی جونیئر سطح کی بھرتیوں میں نمایاں کمی اس سوال کو بھی جنم دے رہی ہے کہ اگر یہی رجحان وسیع معیشت میں پھیل گیا تو مستقبل کے نوجوان ملازمین کے لیے ابتدائی درجے کی ملازمتوں کی نوعیت کیا ہوگی۔


