کیلی فورنیا: ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے تجارتی استعمال کی شرائط میں شامل ایک متنازع شق واپس لے لی ہے، جس کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ کمپنی فیس بک یا دیگر میٹا بزنس اکاؤنٹس سے منسلک نیوز ویب سائٹس اور دیگر آن لائن مواد کو کرال کرکے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور بہتری کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔
ٹیک کرنچ کے مطابق میٹا کی جانب سے حال ہی میں اپ ڈیٹ کی گئی شرائط میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کاروباری اکاؤنٹس سے منسلک ڈومینز، ویب صفحات یا یو آر ایل پر موجود مواد کو اپنی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے، تیاری، بہتری ، تحقیق، تربیت اور ان کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔
اس شق نے قانونی ماہرین اور پبلشرز کی توجہ حاصل کی۔ بعض ماہرین نے اسے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے تحت میٹا ایسے ناشرین کی ویب سائٹس کا مواد بھی حاصل کرسکتی ہے جن کے پاس میٹا کا بزنس اکاؤنٹ موجود ہو، اور اسے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
معاملہ اس لیے بھی حساس تھا کیونکہ اے آئی کمپنیوں کی جانب سے انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے کاپی رائٹ مواد کے استعمال پر پہلے ہی کئی قانونی تنازعات جاری ہیں۔
میٹا گزشتہ برس کاپی رائٹ شدہ کتابوں سے اے آئی ماڈلز کی تربیت سے متعلق ایک نمایاں مقدمے میں کامیاب رہی تھی، تاہم اے آئی ٹریننگ اور کاپی رائٹ کے حوالے سے دیگر مقدمات اب بھی زیرِ سماعت ہیں۔
تاہم میٹا نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ نئی شرائط کمپنی کے ویب کرالرز کے استعمال کے طریقہ کار میں کسی تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتیں۔
اب تازہ پیش رفت میں میٹا نے وہ متنازع زبان اپنی شرائط سے ہٹا دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے صارفین اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جائزہ لینے کے بعد شرائط میں وضاحت کردی ہے کہ ویب کرالنگ سے متعلق یہ دفعات صرف میٹا کے اشتہاری اور کاروباری مصنوعات پر لاگو ہوتی تھیں۔
میٹا نے واضح کیا کہ شرائط میں کی گئی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی کے ویب کرالرز کے کام کرنے کے طریقے میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی کمپنیوں کی جانب سے ویب سائٹس، نیوز آرٹیکلز، کتابوں اور دیگر آن لائن مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنے پر میڈیا ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں آمنے سامنے ہیں۔
میٹا کی جانب سے متنازع شق واپس لینے کے باوجود بنیادی بحث برقرار ہے کہ اے آئی کی تربیت کے لیے ویب پر دستیاب مواد کہاں تک استعمال کیا جاسکتا ہے، اور پبلشرز کو اپنے مواد پر کس حد تک اختیار حاصل ہونا چاہیے۔


