نئی دہلی: بھارت کے سب سے بڑے بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے افشا ہونے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی جائزے میں ڈارک ویب پر دستیاب تقریباً 3 لاکھ 75 ہزار ریکارڈز میں سے 3 ہزار 897 صارفین کی ذاتی شناخت سے متعلق معلومات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ تاہم، اسے بھارتی بینکنگ نظام کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ قرار دینے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 21 اکتوبر کو اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی اطلاع میں ڈیٹا افشا ہونے کے واقعے کی تصدیق کی۔
بینک کو 16 اکتوبر کو اپنے تھریٹ انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے ادارے، ڈیفنس سائبر ایجنسی اور بھارتی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ انڈیا) کی جانب سے ممکنہ ڈیٹا لیک کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔
بینک نے سائبر واقعے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے حفاظتی پروٹوکول فعال کردیے ہیں اور معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے ایک آزاد سائبر سکیورٹی ادارے کی خدمات حاصل کی ہیں۔ تحقیقات کا مقصد افشا ہونے والے ڈیٹا کی صداقت، اس کے ممکنہ ماخذ، واقعے کی وسعت اور صارفین کو لاحق خطرات کا تعین کرنا ہے۔
کن معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ ہے؟
ابتدائی تجزیے کے مطابق، سامنے آنے والے ریکارڈز میں 3 ہزار 897 صارفین کی ذاتی شناخت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ ان میں نام، موبائل فون نمبر، تاریخ پیدائش، ای میل پتے، رہائشی پتے، جنس، بینک برانچ اور صارفین کی شناخت سے متعلق کوائف، نیز قرضوں اور قرض کے لیے درخواستوں سے وابستہ معلومات شامل ہیں۔
حکام تاحال یہ تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ یہ معلومات کس ذریعے سے افشا ہوئیں، آیا تمام دستیاب ریکارڈز حقیقی ہیں اور مجموعی طور پر کتنے صارفین متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے دستیاب اعداد و شمار کو ابتدائی تحقیقات کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ ڈیٹا لیک کی حتمی وسعت۔
بینک کا مؤقف
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے مطابق، ڈیٹا افشا ہونے کے اس واقعے سے بینک کے بنیادی کاروباری امور، مالی کارکردگی یا روزمرہ خدمات کے تسلسل پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا اور بینک کا معمول کا کام جاری ہے۔
تاہم، ذاتی معلومات کا غیر مجاز افراد تک پہنچنا صارفین کے لیے شناخت کے غلط استعمال، جعلی کالز، فریب دہی اور دیگر مالیاتی جرائم کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر کسی جعل ساز کے پاس صارف کا نام، رابطہ نمبر اور قرض سے متعلق معلومات موجود ہوں تو وہ خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرکے مزید حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
بھارتی مالیاتی شعبہ سائبر خطرات کی زد میں
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی مالیاتی شعبے کو سائبر حملوں اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے مسائل سے متعلق متعدد انتباہات موصول ہو رہے ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اکتوبر کے دوران تقریباً 20 مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے والی سائبر سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ ان واقعات میں مبینہ طور پر چوری شدہ پارٹنر بینک اسناد اور ادائیگیوں کے نظام سے منسلک ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئیز) کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر مجاز مالی لین دین کیا گیا۔ تاہم، ان واقعات کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے موجودہ ڈیٹا لیک سے براہِ راست منسلک کرنے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا
بھارتی سائبر سکیورٹی ادارے سرٹ انڈیا نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق، کمزور اسناد، غیر محفوظ اے پی آئیز، ناقص تصدیقی نظام اور انٹرنیٹ سے منسلک انتظامی نظاموں میں سکیورٹی کی خامیاں حملہ آوروں کے لیے مواقع پیدا کرسکتی ہیں۔
صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ
بینکنگ نظام میں ڈیجیٹل خدمات کے بڑھتے استعمال کے باعث صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات کا تحفظ بینکوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے لیے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف صارفین کی رازداری بلکہ مالیاتی اداروں پر اعتماد اور ڈیجیٹل بینکنگ کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جاری تحقیقات سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ ڈیٹا کس طرح غیر مجاز افراد تک پہنچا، آیا کسی داخلی نظام یا تیسرے فریق کی سروس میں خامی موجود تھی اور صارفین کے تحفظ کے لیے مزید کن اقدامات کی ضرورت ہوگی۔


