سوشل میڈیا کا خطرناک فائر چیلنج: لائکس اور ویوز کی دوڑ جان لیوا بن گئی

دبئی: لائکس، ویوز اور وائرل ہونے کی خواہش بچوں کو خطرناک اسٹنٹس کی طرف دھکیل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے فائر چیلنج کی نقل کرنے کے دوران 9 سالہ بچی کے شدید جھلسنے کے واقعے نے والدین، تعلیمی اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سوشل میڈیا آج معلومات اور تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایسے خطرناک رجحانات بھی سامنے آ رہے ہیں جو کم عمر بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان میں ایک نام نہاد آن لائن رجحان ’فائر چیلنج‘ بھی شامل ہے، جس میں لوگ آگ کے ساتھ خطرناک اسٹنٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔

اس خطرناک رجحان کی نقل کرنے کے دوران ایک 9 سالہ بچی کے مبینہ طور پر جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ جھلسنے کی اطلاع نے تشویش بڑھا دی ہے۔

بچی نے سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اسٹنٹ دہرانے کی کوشش کی، جس کے دوران آگ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ واقعہ محض ایک حادثے کی خبر نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ انٹرنیٹ پر دکھائی دینے والا ہر منظر محفوظ نہیں ہوتا اور بچوں کے لیے اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

کیا ہے فائر چیلنج؟

فائر چیلنج ایک خطرناک اسٹنٹ ہے جس میں کوئی شخص آگ کے ساتھ تجربہ کرنے یا اپنے جسم کو آگ کی لپیٹ میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی ویڈیوز مختصر دورانیے کی ویڈیو ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر توجہ حاصل کرنے کے لیے شیئر کی جا سکتی ہیں۔

اس طرح کے اسٹنٹس میں آتش گیر مادوں اور کھلی آگ کا استعمال شدید جھلسنے، مستقل جسمانی معذوری اور موت تک کا سبب بن سکتا ہے۔ آگ چند لمحوں میں قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جبکہ اسے بجھانے کی کوشش بھی صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔

بظاہر سنسنی خیز دکھائی دینے والی ایسی ویڈیوز بچوں کو یہ غلط تاثر دے سکتی ہیں کہ اسٹنٹ دہرانا آسان ہے یا اس کے نتائج سنگین نہیں ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تجربات میں معمولی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

بچے خطرناک چیلنجز کا شکار؟

ماہرینِ نفسیات کے عمومی مشاہدات کے مطابق، بچوں اور نوعمروں میں خطرات کا درست اندازہ لگانے اور فوری خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت عمر کے ساتھ نشوونما پاتی ہے۔ اسی لیے وہ بعض اوقات کسی ویڈیو کی نقل کرتے ہوئے اس کے ممکنہ نتائج کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔

اس کے علاوہ وائرل ہونے کی خواہش ،دوستوں کا دباؤ، نتائج سے ناواقفیت اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے عوامل بھی انہیں خطرناک رجحانات کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری

اس معاملے میں سوال صرف بچوں کے رویے کا نہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کا بھی ہے جہاں ایسے مواد کو دیکھا اور شیئر کیا جاتا ہے۔

خطرناک اسٹنٹس کی ویڈیوز کی شناخت، ان کی رسائی محدود کرنا، مناسب انتباہات دینا اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کے مؤثر انتظامات اہم اقدامات ہیں۔ تاہم، صرف ویڈیو ہٹانا کافی نہیں؛ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے مواد کی دوبارہ اشاعت اور کم عمر صارفین تک رسائی کو روکنے کے لیے مسلسل کوشش کی جائے۔

والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنا کسی بھی صورت میں اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

بچوں کو جان لیوا رجحانات سے کیسے بچائیں؟

بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اسکولوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔

بچوں سے کھل کر بات کریں: انہیں خطرناک چیلنجز کے نتائج سمجھائیں اور ایسا ماحول دیں کہ وہ کسی مشکوک ویڈیو کے بارے میں بلاجھجک سوال کر سکیں۔

والدین کے کنٹرول کا استعمال کریں: عمر کے مطابق مواد کی پابندیاں اور محفوظ سرچ کی سہولت فعال کریں، تاہم یہ بھی یاد رکھیں کہ کوئی فلٹر مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔

آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہیں: بچوں کے زیرِ استعمال ایپس، دیکھے جانے والے مواد اور آن لائن دوستوں کے بارے میں مناسب دلچسپی لیں۔

اسکولوں میں ڈیجیٹل آگاہی بڑھائیں: بچوں کو سائبر سیفٹی، آن لائن دباؤ اور خطرناک چیلنجز کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا جائے۔

خطرناک ویڈیوز شیئر نہ کریں: ایسے مواد کو دوبارہ پھیلانے کے بجائے پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں تاکہ مزید بچے اس کی نقل کرنے کی طرف مائل نہ ہوں۔

وائرل ویڈیو بچے کی جان سے زیادہ قیمتی؟

بچی کے شدید جھلسنے کا یہ واقعہ ڈیجیٹل دور کے ایک اہم تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا بچوں کو سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور دنیا سے جڑنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، تو دوسری طرف غیر ذمہ دارانہ استعمال انہیں ایسے خطرات سے بھی دوچار کر سکتا ہے جن کے نتائج عمر بھر بھگتنا پڑیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو محض موبائل سے دور رکھنے کے بجائے انہیں ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کا شعور دیا جائے۔ والدین نگرانی کریں، اسکول رہنمائی فراہم کریں اور پلیٹ فارمز خطرناک مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔

آخرکار، لائکس، ویوز اور فالوورز عارضی ہیں، لیکن آگ سے ہونے والی چوٹیں مستقل معذوری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ کسی بھی وائرل چیلنج میں حصہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسکرین پر دکھائی دینے والا سنسنی خیز منظر حقیقی زندگی میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔