نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا الزام: میٹا اور اسنیپ کے خلاف نیا مقدمہ

سان فرانسسکو/لاس اینجلس: امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوان صارفین پر مبینہ منفی اثرات کے حوالے سے ایک اور اہم عدالتی مقدمے کی کارروائی شروع ہونے جا رہی ہے، جس میں فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا (میٹا) اور اسنیپ چیٹ کی مالک کمپنی اسنیپ چیٹ کو مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن نے نوجوانوں میں ان کے حد سے زیادہ استعمال اور ذہنی و جسمانی صحت کے مسائل کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، لاس اینجلس میں بدھ سے جیوری کے انتخاب کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ مقدمے میں ابتدائی دلائل 4 نومبر کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر اس سے پہلے فریقین کے درمیان مزید تصفیے نہیں ہوتے تو مقدمہ میٹا اور اسنیپ کے خلاف آگے بڑھے گا۔

اس مقدمے میں دو نوجوان مدعیان، جن کی شناخت ان کے ابتدائی حروف ایس جے اور کے ڈی بی سے کی گئی ہے، نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دعوے دائر کیے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، مدعیان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ان کے موکلین نے بالترتیب 13 اور 15 سال کی عمر میں ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنا شروع کیے جن کے ڈیزائن مبینہ طور پر لت پیدا کرنے والے اور مسائل کو بڑھانے والے تھے۔

الزام کے مطابق، امریکی ریاست الینوائے سے تعلق رکھنے والی نوجوان مدعی ایس جے اسنیپ چیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے لگی، جس کے بعد اسے ذہنی صحت کے مسائل، کھانے پینے کی عادات سے متعلق عارضے اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسرے مدعی کے ڈی بی، جن کی عمر اب 18 سال ہے اور جن کا تعلق ریاست مسیسیپی سے ہے، کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز اور اسنیپ چیٹ کے مسلسل استعمال سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوئی۔

یہ الزامات مدعیان کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں، جبکہ میٹا ماضی میں اس نوعیت کے دعوؤں کی تردید کر چکی ہے۔

زکربرگ اور موسیری کی گواہی

مقدمے میں اہم شخصیات کی گواہی بھی متوقع ہے۔ اے ایف پی کے مطابق، نومبر کے وسط سے میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ، انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری اور اسنیپ کے چیف ایگزیکٹو ایون اسپیگل کے عدالت میں پیش ہو کر گواہی دینے کا امکان ہے۔

اس مقدمے میں عدالت کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، نوجوانوں کے استعمال کی عادات اور ان کے ممکنہ اثرات سے متعلق دلائل کا جائزہ لینا ہوگا۔

اسنیپ کا مؤقف ہے کہ اسنیپ چیٹ کو میٹا کے پلیٹ فارمز سے مختلف انداز میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس کی بنیادی توجہ پیغام رسانی پر ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، مدعیان کے الزامات اسنیپ چیٹ کے ڈیزائن اور ان کے تجربات کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

میٹا بھی ان مقدمات کا دفاع کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے بے بنیاد مقدمات کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کو عدالتی کارروائی کا سامنا

یہ مقدمہ امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ہزاروں قانونی دعوؤں کی کڑی ہے۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور کاروباری طریقۂ کار بچوں اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں لاس اینجلس میں ایک اہم مقدمے میں جیوری نے میٹا اور یوٹیوب کو ایک نوجوان صارف کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں کمپنیوں پر مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس مقدمے میں مدعی کی شناخت کے جی ایم کے نام سے ظاہر کی گئی تھی۔ اسنیپ اور ٹک ٹاک نے مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی تصفیہ کر لیا تھا۔

بعد ازاں ایک دوسرے مقدمے میں اسنیپ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے تصفیے کیے، جبکہ مدعی نے میٹا کے خلاف باقی دعوے واپس لے لیے تھے، جس کے باعث میٹا کو اس مقدمے میں ٹرائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

موجودہ مقدمے میں بھی ٹک ٹاک اور یوٹیوب پہلے مدعا علیہان میں شامل تھے، تاہم دونوں کمپنیوں نے سماعت سے قبل مدعیان کے ساتھ تصفیہ کر لیا۔ میٹا نے ایس جے کے ساتھ تصفیہ کیا ہے، لیکن کے ڈی بی کے ساتھ معاملہ حل نہیں ہوا۔ اسی لیے دونوں مقدمات کو یکجا کرکے ایک ہی ٹرائل میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

میٹا کو دوسرے مقدمات میں بھی قانونی مشکلات

اے ایف پی کے مطابق، میٹا کو امریکا میں دیگر قانونی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔ نیو میکسیکو میں ایک مقدمے میں کمپنی کو صارفین کے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق مبینہ گمراہ کن طرزِ عمل پر ذمہ دار قرار دیا گیا اور اس کے خلاف بھاری مالی جرمانے کا حکم دیا گیا۔

اسی ریاست میں بچوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات سے متعلق ایک اور مقدمے میں بھی میٹا کے خلاف فیصلہ آیا، جس میں مجموعی طور پر 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، رواں سال اگست میں میٹا نے 52 ریاستی اٹارنی جنرلز کے ساتھ ایک مقدمے میں تصفیہ کرتے ہوئے 18 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں اور انسٹاگرام و فیس بک پر نوعمر صارفین کے لیے تبدیلیوں پر اتفاق کیا۔ ان تبدیلیوں میں روزانہ اسکرین ٹائم محدود کرنے جیسے اقدامات بھی شامل تھے۔