جی میل، ڈرائیو اور فوٹوز استعمال کرنے والے خبردار!آپ کا ڈیٹا اشتہارات میں استعمال ہو سکتا ہے؟

نیویارک: گوگل کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد صارفین کے ای میلز، تصاویر اور دیگر معلومات کے استعمال سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض شرائط کے تحت ان سروسز سے حاصل ہونے والی معلومات گوگل کے اشتہارات کو صارفین کی دلچسپی کے مطابق بنانے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

انٹرنیٹ پر کسی چیز کی تلاش کے بعد اسی سے متعلق اشتہارات سامنے آنا اب عام بات ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے جی میل اکاؤنٹ، گوگل ڈرائیو اور فوٹوز سے منسلک معلومات بھی اشتہارات کو ذاتی پسند کے مطابق بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں؟ گوگل کی تازہ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد یہ سوال خاص طور پر اہم ہو گیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا کس حد تک اور کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے 16 اکتوبر 2026 کو اپنی پرائیویسی پالیسی اپ ڈیٹ کی، جس میں جی میل، گوگل ڈرائیو اور گوگل فوٹوز سے متعلق معلومات کے استعمال کی شرائط میں تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت بعض حالات میں ان سروسز سے متعلق معلومات گوگل کی دیگر سروسز کے ذریعے ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ عمل صارف کی اجازت، متعلقہ فیچرز اور اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز سے مشروط ہے۔

گوگل کی پالیسی میں کیا تبدیلی آئی؟

رپورٹ کے مطابق پہلے گوگل کی پالیسی میں جی میل، ڈرائیو اور فوٹوز کے مواد کو ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال نہ کرنے کی وضاحت موجود تھی۔ نئی اپ ڈیٹ میں اس حوالے سے شرائط شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت مخصوص اجازت ملنے پر ان سروسز سے وابستہ معلومات دیگر گوگل سروسز کے ذریعے اشتہارات کو صارف کی دلچسپی کے مطابق بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ صارف کا ہر ای میل، تصویر یا فائل لازماً اشتہارات کے لیے استعمال ہوگی، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ صارف نے کون سی سہولت فعال کر رکھی ہے اور ڈیٹا کے استعمال کی کیا اجازت دی ہے۔

جیمنائی اور گوگل سرچ کا ڈیٹا تک رسائی سے کیا تعلق ہے؟

گوگل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی سروس جیمنائی اور سرچ کے بعض فیچرز کو جی میل، ڈرائیو اور فوٹوز کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ صارف کی اجازت سے یہ سروسز متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل کرکے زیادہ موزوں جوابات، تجاویز اور سہولتیں فراہم کر سکتی ہیں۔

تاہم جیمنائی کو ان سروسز سے منسلک کرنے کا مطلب خودبخود یہ نہیں کہ صارف کا ڈیٹا اشتہارات کے لیے بھی استعمال ہونے لگے گا۔ دونوں معاملات میں متعلقہ اجازتوں اور پرائیویسی سیٹنگز کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

اشتہاری کمپنیاں ای میلز اور تصاویر دیکھ سکتی ہیں؟

اس معاملے میں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ رپورٹ میں گوگل کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اشتہارات دینے والی کمپنیوں کو صارفین کے جی میل ان باکس، نجی تصاویر یا ذاتی مواد تک براہِ راست رسائی نہیں دی جاتی۔

اسی طرح صارف کی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات، مثلاً نام اور ای میل ایڈریس، بھی براہِ راست اشتہاری اداروں کے ساتھ شیئر کرنے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ یعنی اشتہارات کو صارف کی دلچسپی کے مطابق بنانا اور اس کا نجی مواد اشتہاری کمپنیوں کو دکھانا دو الگ معاملات ہیں۔

پرائیویسی کیسے محفوظ رکھیں؟

گوگل صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی پرائیویسی اور پرسنلائزیشن سیٹنگز کا جائزہ لینے کا اختیار دیتا ہے۔ اس لیے جی میل، گوگل ڈرائیو، فوٹوز اور جیمنائی سے منسلک اجازتوں کو وقتاً فوقتاً چیک کرنا ضروری ہے۔

صارفین کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری ڈیٹا شیئرنگ اور ایسی سہولتوں کو فعال نہ رکھیں جن کی انہیں ضرورت نہیں۔ کسی بھی نئی اجازت کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرائط پڑھنا بھی اہم ہے، کیونکہ آن لائن سہولتوں کے ساتھ ذاتی معلومات کے استعمال کا معاملہ بھی جڑا ہوتا ہے۔