انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک فوجی عدالت نے 4 فوجی اہلکاروں کے خلاف ایسڈ حملے کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے۔
ملزمان میں ایڈی سوڈارکو، بُدی ہریانتو ودھی کیہایونو، نندالا دوی پریستیا اور سمی لاکا شامل ہیں، جن پر ایک انسانی حقوق کے کارکن پر منصوبہ بند حملے کا الزام ہے۔ استغاثہ کے مطابق ان پر سنگین اور سوچے سمجھے تشدد کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 12 سال قید ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ 12 مارچ کو پیش آیا جب انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ایندرے یونس پر موٹر سائیکل سوار افراد نے تیزاب پھینکا۔ حملے کے نتیجے میں وہ اپنے جسم کے 20 فیصد سے زائد حصے پر جھلس گئے اور ایک آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہو گئے۔
استغاثہ کے مطابق حملہ آور انڈونیشین فوج کی انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ہیڈکوارٹرز میں اس منصوبے کو تیار کیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی سرکاری حکم پر نہیں کی گئی۔
حقوقِ انسانی تنظیم سے وابستہ ایندرے یونس حکومت میں فوجی کردار کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف سرگرم تھے۔ حملے سے قبل انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں بھی اس معاملے پر تنقید کی تھی۔
انڈونیشین انسانی حقوق کمیشن کے مطابق اس کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عوام میں خوف پیدا کر سکتا ہے اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو متاثر کر سکتا ہے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 6 مئی کو مقرر کی ہے، جس میں استغاثہ مزید گواہ پیش کرے گا۔


