کراچی کی ایک عام سی صبح ہے، مگر ثانیہ جعفری کے لیے یہ ایک نئی زندگی کی علامت ہے۔ اپنے چار سالہ بچے کے ساتھ گھر میں بیٹھی وہ لیپ ٹاپ کے ذریعے ملک کے دوسرے کونے میں موجود مریض کا معائنہ کر رہی ہیں۔ یہ منظر پاکستان میں صحت کے شعبے میں ایک خاموش مگر اہم انقلاب کی عکاسی کرتا ہے، جسے ٹیلی میڈیسن کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز کی تعداد مردوں سے زیادہ ہونے کے باوجود ایک بڑی تعداد شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باعث پیشہ چھوڑ دیتی ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق ایک تہائی سے زائد خواتین میڈیکل گریجویٹس یا تو کبھی پریکٹس شروع نہیں کرتیں یا شادی کے بعد اسے ترک کر دیتی ہیں۔
ایسے حالات میں ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارم صحٹ کہانی امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے اب تک تقریباً 7 500 خواتین ڈاکٹرز کو دوبارہ عملی میدان میں لانے میں مدد دی ہے۔ اس کے ذریعے گھر بیٹھے ڈاکٹرز مریضوں کو آن لائن مشورے فراہم کرتی ہیں، جبکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں قائم کلینکس میں نرسز مریضوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔
اس اقدام کے پیچھے سارہ سعید خرم کا وژن کارفرما ہے، جنہوں نے خود بھی معاشرتی دباؤ کا سامنا کیا اور اپنی ہم جماعت خواتین کو ایک ایک کر کے پیشہ چھوڑتے دیکھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں ڈاکٹر دلہن کا تصور عام ہے، جہاں خواتین کی ڈگری کو سماجی حیثیت کے لیے تو اہم سمجھا جاتا ہے مگر عملی کام کے لیے نہیں۔
معاشرتی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات کا فقدان اور ہسپتالوں میں ہراسانی جیسے مسائل خواتین کو پیشے سے دور کر دیتے ہیں۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر ذکیہ اورنگزیب کے مطابق خواتین ڈاکٹرز کے لیے کام کا ماحول اکثر ان کے خاندانی کردار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دوسری جانب، پاکستان میں صحت کی سہولیات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ تقریباً 70 ہزار رجسٹرڈ خواتین ڈاکٹرز پریکٹس نہیں کر رہیں، جس سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی مزید بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ٹیلی میڈیسن نہ صرف ڈاکٹرز کو واپس لا رہی ہے بلکہ مریضوں کے لیے بھی آسانی پیدا کر رہی ہے۔
کراچی کے ایک غریب علاقے میں رہنے والے ایک شہری نے بتایا کہ قریبی ڈیجیٹل کلینک سے آن لائن مشورہ لینے سے نہ صرف وقت بچتا ہے بلکہ روزانہ کی آمدنی کا نقصان بھی نہیں ہوتا۔
ثانیہ جعفری کے مطابق یہ نظام خواتین کے لیے لچکدار مواقع فراہم کرتا ہے، مگر کامیابی کے لیے خاندانی حمایت بنیادی عنصر ہے۔
پاکستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی مشکلات کے باوجود ٹیلی میڈیسن ایک مثبت تبدیلی کی نوید بن کر ابھر رہی ہے۔ اگر اس ماڈل کو مزید فروغ دیا جائے تو نہ صرف ہزاروں ڈاکٹرز دوبارہ نظامِ صحت کا حصہ بن سکتی ہیں بلکہ ملک کے پسماندہ طبقات کو بھی بہتر طبی سہولیات میسر آ سکتی ہیں۔











