بحر اوقیانوس میں پرتعیش جہاز کے مسافروں پراسرار وائرس کا حملہ، کئی مسافر ہلاک

بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز پر مہلک وائرس کے پھیلاؤ نے ہلچل مچا دی ہے، جہاں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ متعدد بیمار ہو گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، یہ واقعہ کروز شپ ایم وی ہونڈیوس پر پیش آیا، جو ارجنٹینا کے شہر یوشوائیا سے کیپ وردے کی جانب رواں دواں تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ 6 افراد میں سے 3 ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک مریض کی حالت تشویشناک ہے اور وہ جنوبی افریقا میں انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے۔ ایک کیس میں ہینٹاوائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دیگر افراد میں بھی اسی وائرس کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر چوہوں کے فضلے یا پیشاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور شدید صورت میں خون بہنے والی بخار یا سانس کی خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، سب سے پہلے ایک 70 سالہ شخص میں علامات ظاہر ہوئیں، جو بعد ازاں جہاز پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کی لاش اس وقت سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر موجود ہے۔ بعد ازاں اس کی اہلیہ کو بھی بیماری لاحق ہوئی اور انہیں جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا، جہاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکیں۔

جنوبی افریقا کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ زیر علاج ایک مریض میں ہنٹا وائرس پایا گیا ہے، جبکہ دیگر کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ متاثرہ مسافروں کے علاج، مزید ٹیسٹ اور وائرس کی جینیاتی جانچ کا عمل جاری ہے، جبکہ مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری بھی کی جا رہی ہے تاکہ باقی مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ ہینٹاوائرس ایک نایاب بیماری ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ کے واقعات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔