آبنائے ہرمز میں صورتحال کشیدہ، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی افواج نے آبنائے ہرمز میں شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ عام شہری جاں بحق ہو گئے۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانہ بنائی جانے والی کشتیاں ایران کی انقلابی گارڈ سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ عام شہریوں کی تھیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کے ریڈار ابتدائی طور پر بند تھے۔ بعد ازاں جب ایرانی بحریہ نے نگرانی کے نظام کے ذریعے انہیں شناخت کیا تو صورتحال خراب ہوئی۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بحری افواج نے وارننگ فائر کیے جن میں ڈرونز، میزائل اور راکٹ شامل تھے، جس کے نتیجے میں امریکی جنگی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ نے دوبارہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر واشنگٹن پر عائد ہوگی۔

یہ پیش رفت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے، جہاں توانائی کی عالمی ترسیل کا بڑا حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔