آئی ایم ایف کا ڈومور: ٹیکس چھوٹ میں کمی اور نیٹ وسیع کرنے کا مطالبہ

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جن میں ٹیکس اصلاحات، سبسڈی کے نظام اور مالیاتی اہداف پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کو مزید محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور سیلز ٹیکس استثنیٰ میں نمایاں کمی پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات کو محدود کرنے کی شرط بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ ضروری ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اسی تناظر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف تقریباً 15.5 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مذاکرات میں ٹیکس وصولی کے نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور تاجروں کو براہ راست ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اصلاحات پر غور کیا جا رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی اہم تجاویز زیر بحث ہیں، جن میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنا اور سبسڈی کے نظام کو بی آئی ایس پی کے ساتھ منسلک کرنا شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ سے بی آئی ایس پی کے مستحقین کو ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرانے اور نقد ادائیگی ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے تاکہ بجٹ خسارے کو قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اوگرا اور نیپرا میں صرف متعلقہ تجربہ رکھنے والے ماہرین کی تعیناتی پر بھی اتفاق کیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر آئندہ بجٹ میں سخت مالیاتی نظم و ضبط اور وسیع اصلاحات متوقع ہیں، جو معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔