امریکا میں ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درماین جاری مقدمے کے دوران ٹیک کمپنی کے سربراہ گریگ بروک مین نے ایلون مسک نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
کیلی فورنیا کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے بروک مین نے کہا کہ مسک اس وقت غصے میں تھے جب انہیں کمپنی پر مکمل کنٹرول دینے سے انکار کیا گیا۔
انہوں نے یہ بیان اوپن اے آئی کے خلاف ایلون مسک کے مقدمے کے دوران سامنے آیا، جس میں وہ کمپنی اور اس کے سی ای او سیم آلٹ مین پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ادارے کے غیر منافع بخش مشن سے انحراف کیا۔
ایلون مسک کا مؤقف ہے کہ ان کی 38 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کو ایک منافع بخش کمپنی بنانے میں استعمال کیا گیا، جس کی مالیت اب 850 بلین ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مسک نے خود کمپنی اس وقت چھوڑی جب وہ مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی الگ اے آئی کمپنی ایکس اے آئی قائم کر لی، جو اب اوپن اے آئی کی حریف ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے ذاتی نوٹس کے حوالے سے بروک مین نے کہا کہ وہ نجی تحریریں تھیں اور ان میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر انہیں شرمندگی ہو۔ ان نوٹس میں اس وقت کے اخلاقی خدشات کا ذکر بھی موجود تھا۔
بروک مین نے عدالت کو بتایا کہ اوپن اے آئی اب سالانہ تقریباً 50 بلین ڈالر کمپیوٹنگ پر خرچ کرتا ہے، جبکہ 2017 میں یہ رقم صرف 30 ملین ڈالر تھی۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کمپنی کو منافع بخش ماڈل اپنانا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق سیم آلٹ مین آئندہ ہفتے عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں، جس سے اس ہائی پروفائل مقدمے میں مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔


