میٹا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر توجہ بڑھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھٹنیوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی اپنے تقریباً 10 فیصد ملازمین کو فارغ کر سکتی ہے، جبکہ ہزاروں ملازمین کو نئی اے آئی ٹیموں میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
کمپنی کی چیف پیپل آفیسر جینیل گیل کی جانب سے جاری داخلی میمو کے مطابق تقریباً 7 ہزار ملازمین کو مختلف اے آئی پروجیکٹس اور دیگر ٹیموں میں شفٹ کیا جائے گا، جبکہ متعدد مینیجریل عہدے بھی ختم کیے جائیں گے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی اب چھوٹی لیکن تیزی سے فیصلے کرنے والی ٹیمیں تشکیل دینا چاہتی ہے تاکہ اے آئی سے متعلق منصوبوں پر زیادہ تیزی سے کام کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی کے اندرونی سسٹمز اور ٹیم اسٹرکچر میں بھی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ تمام اقدامات میٹا کی نئی اے آئی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت کمپنی مستقبل میں اے آئی ایجنٹس متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔ یہ اے آئی سسٹمز مستقبل میں ایسے کئی کام انجام دے سکیں گے جو اس وقت انسانی ملازمین انجام دے رہے ہیں۔
کمپنی کی نئی ٹیموں میں اپلائیڈ اے آئی انجنیئرنگ ، ایجنٹ ٹرانسفورمیشن ایسلریٹر اور سینٹرل اینالسٹ شامل ہیں، جن کا بنیادی فوکس اے آئی ایجنٹس اور پروڈکٹیویٹی سسٹمز تیار کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ان فیصلوں پر کمپنی کے اندر شدید بے چینی بھی پائی جا رہی ہے۔ متعدد ملازمین نے مبینہ طور پر دفاتر میں پوسٹرز لگا کر اور کمپنی کے داخلی پلیٹ فارم پر پوسٹس کے ذریعے احتجاج کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک ہزار سے زائد ملازمین نے ماؤس ٹریکنگ سافٹ ویئر کے خلاف پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ ایسے ٹولز ان کی پرائیویسی متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ کئی افراد نے کمپنی پر layoffs سے متعلق واضح معلومات نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
کمپنی دستاویزات کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک میٹا میں تقریباً 77 ہزار 986 ملازمین کام کر رہے تھے۔


