ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کے بعد امریکی انتظامیہ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور بعض سینئر حکام کے مستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی انتظامیہ کے چند اہم عہدیداروں کی کارکردگی اور پالیسی مؤقف کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق 14 جون کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بعض حکام نے ایران کے ساتھ سمجھوتے کی مخالفت کی، تاہم صدر ٹرمپ نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر انتظامیہ کے اندر دو واضح گروپ سامنے آ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کوشنر معاہدے کے حامی ہیں، جبکہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو اس حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات کے باعث واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں بھی کچھ تناؤ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ممکنہ تبدیلیوں اور پالیسی فیصلوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تاہم ان اطلاعات کے باوجود وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک کسی ممکنہ برطرفی یا انتظامی تبدیلی کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔











