نیوزی لینڈ کرکٹ نے سال 2026-27 کے لیے اپنے 20 کھلاڑیوں پر مشتمل سینٹرل کانٹریکٹ کی فہرست کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ سب سے حیران کن اور بڑی خبر سابق کپتان کین ولیمسن کی بین الاقوامی کرکٹ سے مستقل ریٹائرمنٹ ہے، جو گزشتہ ایک سال سے عارضی معاہدے کے تحت کھیل رہے تھے۔ دوسری جانب مایہ ناز بلے باز ڈیون کونوے اور فاسٹ بولر بلیئر ٹکنر کی سینٹرل کانٹریکٹ میں واپسی ہوئی ہے، جبکہ عادی اشوک اور محمد عباس اس بار جگہ بنانے میں ناکام رہے۔
کرک انفو کے مطابق ٹیم کے ہیڈ کوچ روب والٹر نے 34 سالہ ڈیون کونوے کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ تینوں فارمیٹس میں ٹیم کا اہم حصہ رہے ہیں اور ان جیسے بہترین کھلاڑی کا دوبارہ مکمل کانٹریکٹ پر آنا خوش آئند ہے۔ کونوے گزشتہ دو برسوں سے عارضی معاہدے پر تھے، تاہم اب انہوں نے یکم اگست 2026 سے 31 جولائی 2027 تک کے لیے خود کو نیوزی لینڈ کے تمام میچز کے لیے دستیاب قرار دیا ہے۔
فاسٹ بولر بلیئر ٹکنر نے گزشتہ چند ماہ کے دوران شاندار کارکردگی کی بدولت اپنی جگہ پکی کی ہے۔ انہوں نے اپنی آخری 8 اننگز میں سے 5 میں چار یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں، جبکہ آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں انہوں نے کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ ٹکنر نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “دوبارہ اس فہرست کا حصہ بننا میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے”۔
ایک اور اہم تبدیلی کے تحت مائیکل بریسویل اور مارک چیپمین نے ٹیسٹ کرکٹ کی درجہ بندی سے باہر رہنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد اب وہ سینٹرل کانٹریکٹ کی فہرست میں صرف وائٹ بال (محدود اوورز) کے ماہر کھلاڑیوں کے طور پر شامل رہیں گے۔ نوجوان کھلاڑی زیک فولکس اور مچل ہے، جنہوں نے گزشتہ سال پہلی بار کانٹریکٹ حاصل کیا تھا، گزشتہ 12 ماہ کے دوران تینوں فارمیٹس میں بہترین کارکردگی کی بدولت اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق عارضی معاہدوں کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، جس کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا۔











