معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی حالیہ اسٹوریز کے ذریعے سالہا سال کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو عوام کے سامنے رکھتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہراساں کرنے والے افراد کے نام اور چہرے بے نقاب کرنا ان کی بہادری نہیں بلکہ شدید مجبوری کا نتیجہ ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سخت فیصلہ اس لیے کیا تاکہ معاشرے کی دیگر خواتین ایسے لوگوں سے محفوظ اور محتاط رہ سکیں۔
مومنہ اقبال نے اپنی پوسٹ میں انکشاف کیا کہ سوسائٹی اور قریبی لوگ انہیں مسلسل مشورے دے رہے تھے کہ وہ ان بااثر یا متعلقہ افراد کے نام سامنے نہ لائیں اور انہیں بے نقاب کرنے سے گریز کریں۔ تاہم، اداکارہ نے ان مشوروں کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے برسوں جو کچھ برداشت کیا، وہ کسی اور خاتون کے ساتھ نہ ہو، میں ان کے چہرے اس لیے دکھا رہی ہوں تاکہ خواتین ایسے لوگوں سے محتاط رہیں۔

اپنی جدوجہد کے ذہنی اور جذباتی اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی رنجیدہ مگر مضبوط لہجے میں لکھا کہ انہوں نے آواز اس وقت اٹھائی جب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا خاموش رہنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا، میں اس لیے بول پڑی کیونکہ میں اندر سے تھک چکی تھی، جہاں ہر روز خود کو سچ ثابت کرنے کی ایک نئی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔
اداکارہ نے اپنے بیان میں مذہبی اسکالر ناصر مدنی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ناصر مدنی صاحب! آپ نے منبر پر بیٹھ کر مجھ پر لگائی گئی تہمت کو ہوا دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب کسی مظلوم کے لیے تمام قانونی یا سماجی راستے بند ہو جاتے ہیں، تبھی وہ عوامی سطح پر آنے جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔












