پمز میں ایک اور مکروہ دھندا: نومولود بچوں کی خرید و فروخت کا انکشاف

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نومولود بچے کی مبینہ خرید و فروخت اور رقم وصولی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں سیکیورٹی عملے نے بچے کی حوالگی کے لیے آنے والے میاں بیوی کو مشکوک صورتحال میں روک کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پمز سیکیورٹی اسٹاف کی جانب سے تھانہ کراچی کمپنی پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق میاں بیوی مبینہ طور پر ایک نومولود بچے کی حوالگی کے لیے اسپتال پہنچے تھے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے رقم وصول کرکے انہیں بچے کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

سیکیورٹی عملے کے مطابق میاں بیوی نے بچے کے حصول کے لیے مبینہ طور پر رقم ادا کی، جس کے بعد وہ بچے کی حوالگی کے لیے پمز اسپتال پہنچے۔ سیکیورٹی اسٹاف نے دونوں کو مشکوک صورتحال میں روک کر پوچھ گچھ کی۔

درخواست کے ساتھ مبینہ طور پر محمد شاہ زیب نامی شخص کو آن لائن رقم کی ادائیگی کی تفصیلات بھی پولیس کو فراہم کی گئی ہیں۔ درخواست کے مطابق میاں بیوی کا مبینہ طور پر محمد عمران کے نام سے استعمال ہونے والے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ذریعے رابطہ ہوا تھا۔

پمز سیکیورٹی اسٹاف نے پولیس سے متعلقہ موبائل نمبرز، مالی لین دین اور رابطوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی ہے، جبکہ معاملے کے پس پردہ ممکنہ منظم گروہ اور اس کے دیگر ارکان کا سراغ لگانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی عملے کے مطابق کچھ عرصہ قبل بھی اسی نوعیت کے ایک مبینہ معاملے میں ایک خاتون اور لڑکی کو اسپتال میں روکا گیا تھا۔

پمز سیکیورٹی نے پولیس سے مبینہ رقم وصولی اور نومولود بچے کی فراہمی سے متعلق معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی درخواست کی ہے۔ معاملے کی مزید تفصیلات پولیس کی تحقیقات کے بعد سامنے آسکیں گی۔