واشنگٹن: امریکا نے ایچ ون بی ویزا کی خلاف ورزی پر 8 ٹیک کمپنیوں پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر محنت کیتھ سنڈرلنگ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لئے گرین کارڈ اسپانسرشپ پروگرام معطل کرنے کا اعلان کیا
ویزا پابندیوں کا شکار 8 کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، ایڈوبی ، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز ، انفوسس ، وپرو ، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز، کوگنیزنٹ اور کیپ جیمنی شامل ہیں
پابندی کیا ہے؟
امریکا نے براہ راست ایچ ون بی پر پابندی نہیں لگائی ۔۔ پی ای آر ایم یعنی پرمیننٹ لیبر سرٹیفکیشن پروگرام پر لگائی ہے ۔ جو پہلا قانونی مرحلہ ہے جس میں کمپنی کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ نوکری کے لیے کوئی اہل امریکی شہری دستیاب نہیں، تب ہی وہ کسی غیر ملکی کوای بی -2 اور ای بی -3 کیٹیگری میں گرین کارڈ کے لیے اسپانسر کر سکتی ہے۔ل
پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر محنت کیتھ سنڈرلنگ نے کہا کہ ہم ان کمپنیوں کی کوئی نئی یا زیر التوا پی ای آر ایم درخواست نہ قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس پر کارروائی ہوگی۔۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سب سے زیادہ تنقید مائیکروسافٹ پر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے امریکا میں اس سسٹم کا سب سے زیادہ غلط استعمال مائیکروسافٹ نے کیا ہے۔ ہر ایک امریکی کو نکال کر ڈیڑھ غیر ملکی مزدور کو رکھا گیا۔
مائیکروسافٹ نے 2025 میں 6000 امریکی ملازمین فارغ کئے اور اسی دوران 6300 سے زائد ایچ ون بی ویزے حاصل کیے اور 3682 گرین کارڈ درخواستیں جمع کرائیں۔ ان میں سے تقریباً ایک ہزار درخواستیں ان ہی عہدوں پر تھیں جن سے امریکیوں کو نکالا گیا تھا۔
وزیر محنت نے انکشاف کیا کہ صرف ان 8 کمپنیوں نے 2009 سے اب تک تقریباً 30 لاکھ غیر ملکی ورکرز کی درخواستیں دی ہیں، جن میں 2 لاکھ 30 ہزار ایچ ون بی اور ایک لاکھ سے زائد گرین کارڈ سرٹیفیکیشن شامل ہیں۔
دوسری جانب ستمبر 2025 میں لگائی گئی ایک لاکھ ڈالر ایچ ون بی درخواست فیس کو بھی ستمبر 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ فیس پہلے صرف 995 ڈالر تھی۔
انتظامیہ نے ویزا فراڈ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی بنا دی ہے اور 9 بڑی امریکی یونیورسٹیوں بشمول ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایچ ون بی ویزا کا 70 فیصد کوٹہ بھارتی شہری لے جاتے ہیں، اس لیے بھارت میں تشویش پھیل گئی۔ تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے 9 اکتوبر کو وضاحت کی کہ موجودہ ایچ ون بی ویزے منسوخ نہیں ہوں گے، نہ ہی ان کے حاملین کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔ اثر صرف مستقبل کی گرین کارڈ درخواستوں پر پڑے گا۔


