غریب ممالک کے پاس اخراجات میں کٹوتی کے سوا کوئی راستہ نہیں، آئی ایم ایف ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ

آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ پیتیا کووا بروکس نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور بھاری قرضوں نے کم آمدنی والے ممالک کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ کئی ممالک کے پاس سرکاری اخراجات میں کمی یا قرضوں کی تنظیمِ نو کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے پیتیا کووا بروکس کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت کو مسلسل بحرانوں کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث قرضوں کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ مہنگائی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

آئی ایم ایف کی عہدیدار کے مطابق تیل درآمد کرنے والے اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک توانائی کے حالیہ بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں خوراک اور توانائی پر اخراجات کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث عوام کو ریلیف دینا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

پیتیا کووا بروکس نے کہا کہ جن ممالک کے قرضے ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں، انہیں قرضوں کی بروقت تنظیمِ نو پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ تاخیر کی صورت میں مستقبل میں اس عمل کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے سے بھی عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات توقعات سے زیادہ گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔