اقرار الحسن چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

کراچی: اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کے خلاف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر تنقید سے متعلق سوشل میڈیا مواد کی بنیاد پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اقرار الحسن کو کراچی میں ضلع شرقی کے جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے انھیں چار روز کے لیے تفتیشی ادارے کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔

مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق، اقرار الحسن پر الزام ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے ایسا مواد شائع کیا جو مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز تھا۔

حکام کا مؤقف ہے کہ اس مواد کا مقصد ریاست، ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانا تھا۔ تاہم یہ الزامات تاحال مقدمے میں درج دعوے ہیں، جن کے بارے میں عدالت میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں اقرار الحسن کی ایک سوشل میڈیا ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

این سی سی آئی اے نے 10 اکتوبر 2026 کو پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ان دفعات کا تعلق بالترتیب جرم کی ترویج، سائبر دہشت گردی، کسی فرد کے وقار کے خلاف جرم، سائبر اسٹاکنگ اور جھوٹی یا جعلی معلومات سے متعلق جرائم سے ہے۔

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ویڈیو میں ریاستی اقدامات کو غلط اور مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، قانونی کارروائیوں کو متنازع بنایا گیا اور عوام کو ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف اکسانے کی کوشش کی گئی۔

مقدمے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اقرار الحسن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بڑی تعداد میں فالوورز موجود ہیں، اس لیے مبینہ مواد پاکستان اور بیرون ملک وسیع پیمانے پر لوگوں کی دسترس میں تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، ویڈیو میں سزا یافتہ افراد کو عظیم بنا کر پیش کرنے اور وفاق کی سالمیت و یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا پہلو بھی موجود ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، مبینہ متنازع مواد کے اسکرین شاٹس اور اسکرین ریکارڈنگز بھی محفوظ کی گئیں، تاکہ انھیں بطور ثبوت مقدمے کا حصہ بنایا جا سکے اور ان میں ممکنہ ردوبدل یا حذف ہونے سے بچایا جا سکے۔

اقرار الحسن کے اہلخانہ کے مطابق، انھیں اتوار کی شب لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کی اہلیہ فرح اقرار کا کہنا تھا کہ سادہ لباس اور چہروں پر ماسک ہونے کے باعث اہلخانہ کے لیے ابتدا میں یہ سمجھنا مشکل تھا کہ آیا یہ باقاعدہ گرفتاری تھی یا اغوا کا واقعہ۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ اقرار الحسن کس کی تحویل میں ہیں۔