کراچی: آن لائن بینکنگ اور موبائل والٹس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر فراڈ کے نت نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک طریقہ جمپڈ ڈپازٹ اسکیم ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل فراڈ بڑھ گیا ہے۔ سادہ لوح افراد اس کا شکار ہوکر اپنی جمع پونجی گنارہے ہیں۔
جمپڈ ڈنازٹ اسکیم کے نام سے مشہور اس فراڈ میں نوسرباز پہلے کسی شخص کے موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹ میں تھوڑی سی رقم بھیجتے ہیں اور پھر غلطی سے پیسے منتقل ہونے کا بہانہ بنا کر رقم واپس مانگتے ہیں۔
ابتدا میں یہ معاملہ معمولی غلطی محسوس ہوتا ہے، لیکن دھوکے باز اسی اعتماد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ رقم واپس کرنے کے لیے ادائیگی کی درخواست بھیج سکتے ہیں یا کسی دوسرے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کرنے پر اصرار کرسکتے ہیں۔ اگر صارف بغیر تصدیق کے ان کی بات مان لے تو اسے مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے آجائیں اور کوئی اجنبی فون کرکے دعویٰ کرے کہ رقم غلطی سے منتقل ہوئی ہے، تو وہ فوری واپسی کے لیے مختلف جذباتی حربے استعمال کرسکتا ہے۔
جھانسے میں آجانے پر نوسرباز اپنے شکار کو کسی مشکوک ویب سائیٹ کے لنک پر جانے، حساس معلومات دینے یا کسی دوسری ادائیگی کی منظوری دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
تاہم، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اکاؤنٹ میں رقم آنے کا مطلب خودبخود فراڈ ہونا نہیں ہے۔ اصل معاملے کی تصدیق بینک کے ذریعے کرنا ضروری ہے۔
اگر آپ کے اکاؤنٹ میں اچانک کوئی نامعلوم رقم آجائے تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
فوراً رقم واپس نہ بھیجیں: پہلے اپنے بینک یا متعلقہ ڈیجیٹل والٹ کی سرکاری ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
صرف ضابطے کے مطابق رائج طریقۂ کار اپنائیں: رقم کی منتقلی اور واپسی کے لیے بینک یا سروس فراہم کرنے والے ادارے کی ہدایات پر عمل کریں۔
کسی ادائیگی کی درخواست منظور نہ کریں: اگر آپ نے خود ادائیگی شروع نہیں کی تو کسی مشکوک درخواست کو قبول کرنے سے گریز کریں۔
او ٹی پی اور پن ہر صورت خفیہ رکھیں: کسی اجنبی کو اپنا ون ٹائم پاس ورڈ، موبائل والٹ پن، پاس ورڈ یا بینکنگ کی معلومات نہ دیں۔
مشکوک لنکس سے بچیں: رقم واپس لینے یا اکاؤنٹ کی تصدیق کے نام پر بھیجے گئے نامعلوم لنکس نہ کھولیں۔
ثبوت محفوظ رکھیں: مشکوک کالز، پیغامات اور لین دین کی تفصیلات محفوظ کرکے متعلقہ ادارے کو فراہم کریں۔
اکاؤنٹ سے رقم نکل جائے تو کیا کریں؟
اگر آپ کو شبہ ہو کہ آپ فراڈ کا شکار ہوگئے ہیں تو فوری طور پر اپنے بینک یا موبائل والٹ فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کرکے ٹرانزیکشن کی اطلاع دیں۔ ممکن ہو تو متعلقہ اکاؤنٹ یا ادائیگی کی سکیورٹی کے لیے فوری اقدامات کروائیں۔
پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق شکایت کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سرکاری ذرائع سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ بینک اور مالیاتی ادارے کو بھی تحریری شکایت درج کروائیں۔


