اہم ترین

ناسا کی سنسنی خیز دریافت! بےنّو ایسٹروئیڈ میں زندگی کے اجزاء مل گئے

ناسا کے اوسیریس ریکس مشن کے دوران سورج کے گرد گھومنے والے بےنّو نامی شہاب ثاقب کے نمونوں میں سائنسدانوں نے ایسی شکر اور نامیاتی مالیکیولز دریافت کیے ہیں جو ڈی این اے اور آر این اے کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

شاہ ثاقب (ایسٹروئیڈز) طویل عرصے سے سائنسدانوں کی تحقیق کا اہم موضوع رہے ہیں۔ یہ چٹانی پتھر سورج کے گرد دوسرے سیاروں کی طرح گردش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں چھوٹے سیارے بھی کہا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک ایسٹروئیڈ بےنّو کے نمونے ناسا نے جمع کیے ہیں۔ سائنسدان کئی برس سے ان سیمپلز کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ بےنّو کہاں سے آیا اور کیا کبھی اس پر زندگی کے آثار موجود تھے۔

اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق 2023 میں ناسا کے مشن اوسیریز ریکس نے بےنّو سے 122 گرام دھول اور پتھریلے ذرات زمین پر پہنچائے تھے، جن کا مسلسل مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ بےنّو میں بہت سے کاربن پر مشتمل نامیاتی مالیکیولز موجود ہیں جنہیں زندگی کے بنیادی اجزاء مانا جاتا ہے۔ایسٹروئیڈ بےنّو کے سیمپلز میں ایسی شکر دریافت ہوئی ہے جو زندگی کے بننے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

نیچر جیوسائنسز اور نیچر آسٹرونومی جیسے موقر جریدوں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے بےنو سے لئے گئے نمونوں میں ایسی شکر پائی گئی جو آر این اے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتی۔

اگرچہ یہ دریافت بےنّو پر زندگی کی موجودگی کی تصدیق نہیں کرتی، لیکن یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ یہ جیو کیمیکل مالیکیولز نظام شمسی پھیلے ہوئے ہیں۔

پاکستان