اہم ترین

بھارت غلط فہمی میں نہ رہے اگلی مرتبہ ردعمل زیادہ ہو گا: چیف آف ڈیفنس فورسز

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بھارت کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اگلی مرتبہ پاکستان کا ردعمل بہت زیادہ تیز اور شدید ہو گا۔

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں تینوں مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ تقریب چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے منصب کے قیام پر منعقد ہوئی۔

تقریب میں چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف چیف آف ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سمیت تینوں سروسز کے سینئر عسکری افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر جنرل عاصم منیر نے تینوں سروسز کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی قوم کے غیر معمولی حوصلے، یکجہتی اور مسلح افواج کے جانباز مرد و خواتین کے پیشہ ورانہ کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کی ملٹی ڈومین آپریشنز مستقبل کی جنگوں کے لیے ایک اہم نصابی مثال اور کیس اسٹڈی بن چکے ہیں۔ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کا فخر رہیں گی۔

جنرل عاصم منیر نے تینوں سروسز کے مابین باضابطہ ہم آہنگی اور انضمام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے جدید تقاضے تیزی سے سائبر اسپیس، الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم، آؤٹر اسپیس، انفارمیشن آپریشنز، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے نئے شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔ اس تناظر میں نو قائم شدہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ ہم آہنگی اور یک جہتی فراہم کرے گا۔

اپنے خطاب میں جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ان کا ویژن ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک ثقافتی طور پر جدید، ہمہ وقت تیار اور دشمن کو مؤثر انداز میں باز رکھنے والی طاقت کے طور پر سامنے آئیں، جس پر پوری قوم کو مکمل اعتماد ہو۔

چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کے ایک پرامن ملک ہونے کے مؤقف کو دہرایا لیکن خبردار کیا کہ کسی کو بھی اسلام آباد کی علاقائی سالمیت یا خود مختاری کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بھارت کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اگلی مرتبہ پاکستان کا ردعمل بہت زیادہ تیز اور شدید ہو گا۔

کابل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے پاس خوارج شرپسندوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

پاکستان