پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کہتے ہیں کہ ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے۔
اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ 25 مئی 2023 کے بعد سے ہماری جماعت کو کرش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اعظم خان کو 40 روز تک اغواء رکھا گیا اور خاور مانیکا کو دباؤ میں لایا گیا، میڈیا کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کی بھی مثال نہیں ملتی، میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ایک مفرور کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔نواز شریف کے سارے کیسز اسٹیبلشمنٹ نے معاف کروائے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انتخابی ٹکٹوں کا اختیار میں نے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کو سونپا تھا، شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی تھی جس کی وجہ سے حمایت نہیں کی گئی،۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے مذاکرات پر تیار ہیں، میں اقتدار کے لیے مذاکرات کسی سے نہیں کروں گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا اس لیے کہتا ہوں کہ تمام کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی انجینئرنگ نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، عوام جس کو منتخب کریں اقتدار اس کو ملنا چاہیے، اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی پی ٹی آئی کو نہیں روک اور ہرا نہیں سکتا، ہم نے اتوار کو صرف انتخابی مہم کے لیے نکلنے کی کال دی ہے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم حکومت بنانے میں پیپلز پارٹی کا ساتھ کیوں دیں گے، سیاسی اتحاد صرف ایم ڈبلیو ایم اور جے یو ائی شیرانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔











