انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان میں بدعنوانی کو ایک مسلسل، گہری جڑوں والی اور تباہ کن حقیقت قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدعنوانی ریاستی اداروں کی اندرونی کمزوریوں، غیر شفاف پالیسیوں اور ناقص احتساب کے باعث مضبوط ہوتی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر معیشت، سرمایہ کاری اور عوامی اعتماد پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے جنوری 2023 سے دسمبر 2024 تک دو برسوں میں 053 ارب روپے کی وصولی بدعنوانی کے اصل حجم کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کا کُل حجم معلوم کرنا مشکل ہے، تاہم ریکوری کی رقم سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشی نقصان کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بدعنوانی پاکستان میں سرکاری فنڈز غلط سمت موڑ دیتی ہے، منڈیوں میں بگاڑ پیدا کرتی ہے،منصفانہ مقابلہ ختم ،اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتی ہے۔
آئی ایم ایف نے قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بانی نے 1947 میں بدعنوانی کو زہر قرار دیا تھا، مگر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کا بوجھ کسی ایک حکومت تک محدود نہیں، بلکہ تمام سابقہ سویلین حکومتیں اور آمریتیں اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں۔ مثال کے طور پر 2019 میں تحریکِ انصاف دور میں چینی کی برآمد کی اجازت کو بھی غیر منصفانہ پالیسی سازی کی علامت قرار دیا گیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق شہریوں کو عام سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی غیر قانونی ادائیگیوں کا سامنا رہتا ہے۔اعلیٰ سطح پر پالیسی سازی اس طرح ہوتی ہے کہ معاشی و سیاسی اشرافیہ کو فائدہ پہنچے۔بدعنوانی سے حاصل شدہ رقوم ملک سے باہر منتقل ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام پیچیدہ اور کمزور کارکردگی کا حامل ہے، جس کی وجہ سےمعاہدوں کا مؤثر نفاذ ممکن نہیں،املاک کے حقوق محفوظ نہیں رہتے اور عدالتی افسران کی دیانت داری پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے احتسابی اداروں کی محدود خودمختاری اور باہمی انتشار کو بھی بدعنوانی کے فروغ کا بڑا سبب قرار دیا۔
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ اگر پاکستان آئندہ پانچ برس میں جامع گورننس اور شفافیت پر مبنی اصلاحات نافذ کر دے، تو جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں پبلک پروکیورمنٹ، ترقیاتی اخراجات، ٹیکس نظام، سرکاری اداروں کی نگرانی، بجٹ سازی، مالی شفافیت اور عدالتی کارکردگی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اگلے اجلاس میں 1.2 ارب ڈالر کی دو قسطوں کی منظوری سے پہلے رپورٹ کا جاری ہونا ضروری تھا۔ اسی شرط کے تحت پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے تقریباً تین ماہ کی تاخیر کے بعد اسے جاری کیا۔ پاکستان کے لیے یہ رپورٹ نہ صرف تنبیہ ہے بلکہ ایک واضح اشارہ بھی کہ بدعنوانی کے خاتمے کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔











