امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی جامع امن منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کے مطابق منصوبہ دونوں ممالک کو سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرتے ہوئے ایک ’’پائیدار امن‘‘ کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ترک نیوز ویب سائیٹ ٹی آر ٹی کے مطابق امریکا کے اعلی اہلکار نے منصوبے کی مکمل تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک اس وقت متعلقہ فریقین کے درمیان گفت و شنید کے مرحلے میں ہے۔ اب تک یہ امن منصوبہ یوکرین کی حکومت کو رسمی طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
اس حوالے سے امریکی فوجی وفد نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں فوجی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی پر بات چیت کے ساتھ ساتھ امن عمل کی بحالی کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت حاصل کرنےکی کوشش کی۔
ایک امریکی اہلکار نے اس دورے کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے “امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش” قرار دیا۔
دوسری جانب روسی ایوان صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کا ڈریسکول سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی گزشتہ ماہ الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے باوجود امن عمل میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہو سکی۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکی امن منصوبے سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی معلومات کے بارے میں انہیں کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی۔
یوکرین کے ایک حکومتی ذریعے اور ایک یورپی اہلکار کا دعویٰ ہے کہ اس امن منصوبے کی تیاری میں کیف کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہیں صرف منصوبے کے کچھ عمومی نکات بتائے گئے لیکن تفصیلی بریفنگ یا رائے طلب نہیں کی گئی۔
یوکرینی حکومتی ذرائع کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت میں آئی ہے جب صدر وولودیمیر زیلنسکی بدعنوانی اسکینڈل کے تنازع کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے اس منصوبے کے پیچھے سیاسی مقاصد کی بحث بھی جنم لے رہی ہے۔











