اہم ترین

خبردار! اے آئی کو 4 چیزیں بتائیں گے تو نقصان اٹھائیں گے

آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ہر شخص کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ چاہے اسٹوڈنٹس ہوں، نوکری پیشہ لوگ ہوں یا کانٹینٹ کری ایٹرز ، سب ہی اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔ کئی صارفین نے تو اے آئی کو اپنا ہمراز اور دوست تک بنا لیا ہے، یہاں تک کہ کچھ لوگ اس سے اپنا تنہائی کا احساس بھی بانٹنے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی کے ساتھ ہر طرح کی معلومات شیئر کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں وہ باتیں جو آپ کو کبھی بھی چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔

ذاتی معلومات

اے آئی ایک انٹرنیٹ بیسڈ سسٹم ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ بینک اکاؤنٹ نمبر، پاس ورڈز، اوٹی پی، قومی شناختی کارڈ، یا کسی بھی حساس معلومات شیئر کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہیکرز ایسے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے بینک اکاؤنٹس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

غیر قانونی سوالات

اے آئی سے ایسے سوالات کرنا جن میں غیر قانونی سرگرمی شامل ہو، جیسے اکاؤنٹ ہیک کرنا، فیک آئی ڈی بنانا، وائرس تیار کرنا، ناصرف غلط ہے بلکہ یہ آپ کو سائبر قوانین کی زد میں بھی لا سکتا ہے۔ ایسی سرگرمیوں کو سسٹم مانیٹر بھی کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر رپورٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔

طبی مشورے

اے آئی اصل ڈاکٹروں کا متبادل نہیں ہے۔ یہ صرف انٹرنیٹ پر موجود معلومات کو ملا کر جواب دیتا ہے۔ اس لیے کسی بھی بیماری، علاج یا میڈیکل ایڈوائس کے لیے اے آئی پر انحصار کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ایسے معاملات میں حقیقتاً کسی ڈاکٹر یا ماہر سے رابطہ کیا جائے۔

حساس اور بھڑکانے والے سوالات

اے آئی سے ایسے سوالات پوچھنے سے گریز کرنا چاہیے جو مذہب، فرقہ، کمیونٹی، دہشت گردی یا نفرت انگیزی سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس طرح کے سوالات قانوناً قابلِ اعتراض ہو سکتے ہیں اور انہیں رپورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان