چین کی برآمدات نومبر میں سالانہ بنیاد پر 5.9 فیصد بڑھ گئیں، جو اکتوبر میں معمولی کمی کے بعد ایک خوشخبری ہے، لیکن امریکہ کے لیے یہ خوشی کچھ کم رہی—نومبر میں برآمدات 28.6 فیصد گر کر 33.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ باقی دنیا نے ہی چین کی برآمدات کا سہارا لیا، ورنہ یہ ٹریڈ وار کا وقفہ بھی کوئی کام نہ آتا!
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی قیمتوں کی مسابقت اور دیگر مارکیٹوں میں شپمنٹس نے امریکہ کی کمی کو پورا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں چین کی برامدات درآمادات کے مقابلے میں پہلے 11 ماہ میں 1.08 ٹریلین ڈالر (1080 ارب ڈالر)تک بڑھ گئیں۔ فرانس کے صدر میکرون نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ فرق کم نہ ہوا تو یورپ ٹیکس لگا سکتا ہے، یعنی تجارتی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔!
دریں اثنا، چین کے داخلی بازار کی حالت اب بھی کمزور ہے۔ نومبر میں درآمدات صرف 1.9 فیصد بڑھی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ گھر والا خرچ ابھی بھی سست ہے۔ پراپرٹی سیکٹر کی سست رفتاری نے معیشتی رفتار بھی کم کر دی ہے، لیکن برآمدات کا زور اسے کچھ حد تک بچا رہا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان اکتوبر میں طے پانے والا یہ عارضی تجارتی وقفہ اگلے سال کے آخر تک ہے، جس دوران مستقل معاہدہ طے ہونے کی امید ہے، مگر ماہرین کہتے ہیں، یہ وقفہ زیادہ دیر قائم رہنے والا نہیں، اگلے سال عالمی طلب کمزور رہنے کا امکان ہے، یعنی خوشی ابھی آدھی ادھوری ہے۔
چین کے رہنما اس ہفتے اہم اقتصادی اجلاس میں بیٹھیں گے، تاکہ بڑھتی برآمدات اور سست داخلی طلب کے درمیان توازن قائم کر سکیں—ویسے تو لگتا ہے کہ برآمدات تو سب ٹھیک کر دیں گی، لیکن گھر والے بازار کا حال ابھی بھی اداس ہے۔











