بھارت میں آج کل ایک کانسٹیبل کے بڑے چرچے ہیں جس کے قبضے سے 52 کلو سونا، 230 کلو چاندی اور 8 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار سے تعلق رکھنے والا سوربھ سنگھ 2016 میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا۔ اسے یہ نوکری اس کے والد کی اچانک موت کی وجہ سے ملی تھی۔
سوربھ سنگھ نے ملازمت حاصل کرنے کے ایک برس کے اندر ہی محکمے کے افسران سے ایسے تعلقات بنا لیے کہ ٓاپنا تبادلہ چیک پوسٹوں سے متعلق محکمے میں کر دیا گیا تھا۔
اس نے اپنے دوست چیتن کو فرنٹ مین بناکر چیک پوسٹوں کے ٹھیکے لئے صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ رواں برس مدھیہ پردیش کی حکومت نے جن 47 چیک پوسٹوں کو بند کیا ان مین سے آدھی سے زیادہ کا ٹھیکہ سوربھ نے اپنے دوست کو دلوایا تھا۔
مدھیہ پردیش کے ادارہ پارلیمانی محتسب کے ڈائریکٹر جیدیپ پرساد کا کہنا ہے کہ سوربھ کے خلاف غیرقانونی اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا مقدمہ 18 دسمبر کو درج کیا گیا تھا۔ 20 دسمبر کی رات انہیں بھوپال کے جنگل میں ایک کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی۔ جس میں سے 52 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ یہ کار چیتن کے نام پر تھی جسے پہلے ہی تلاش کیا جارہا تھا۔
پارلیمانی محتسب نے پھر سوربھ اور چیتن کے گھروں پر چھاپے مارے اور وہاں سے انھوں نے مزید 230 کلو چاندی اور کروڑوں روپے نقد برآمد کیے۔سوربھ فی الحال روپوش ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔











