وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے قرض لیکر ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔
کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے صدر دفتر میں تقریب سے خطاب کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے مضبوط معیشت اہم ہے۔ نجی شعبہ ملکی ترقی کے لیے اہم ہے ۔ حکومت اور نجی شعبے کی شرکت داری تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایف سی کے تحت ٹیکس اکٹھا کیا گیا 60 فیصد صوبوں کو جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کو ملنے والے فنڈز زیادہ تر قرض ادائیگی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ دفاع کے لیے 2500 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پنشن کے لیے قرض لیکر ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمارا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ ہے۔ ہم دنیا کی کم ترین ٹیکس ادائیگی والے ملکوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10 سے 12 فیصد ہے جب کہ دنیا بھر میں یہ شرح 16 سے 18 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں الیکشن نتائج تبدیل کرکے ناتجربہ کار حکومت کو لایا گیا۔ پاکستانی معیشت کی کنجی ایسے شخص کو دی جو یونین کونسل کا الیکشن تک نہیں جیت سکتا تھا ۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے جس جذبے سے دشمن کو شکست دی اسی طرح معیشت کو ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا ۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات کرکے ٹیکس چوری روکنی ہوگی، کیونکہ ٹیکس وصولی جتنی زیادہ ہوگی ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔ ملکی برآمدات بڑھانا ہوگی اس سے ملک ترقی کرے گا۔











