قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ تین سالوں میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کر کے 115 کھرب روپے سے زائد قومی خزانے میں واپس کر دیے ہیں۔ ادارے کی کارکردگی کی تفصیلات سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کی گئیں، جن کے مطابق ہر ایک خرچ شدہ روپے کے بدلے 629 روپے واپسی ہوئی۔
نیب نے 48 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروائی، جس سے 110 کھرب روپے کی بچت ہوئی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے 1 لاکھ 29 ہزار متاثرین کے 213 ارب روپے بھی واپس دلائے گئے، جبکہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی میں 85 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے۔
دستاویزات میں بتایا گیا کہ اب 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کے کیسز پر کارروائی نہ لینا احتساب کے عمل میں رکاوٹ ہے، اور کرپشن کیس میں ملزم کے ذاتی فائدے کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح، 100 سے کم متاثرین والے دھوکہ دہی کے کیسز نیب کے دائرہ اختیار سے خارج کر دیے گئے ہیں تاکہ تحقیقات میں تاخیر کم ہو۔
احتساب عدالتوں میں ایک ریفرنس کا فیصلہ اوسطاً چھ سال میں ہوتا ہے، اور ملک بھر میں 23 میں سے صرف 16 احتساب عدالتیں فعال ہیں، جبکہ 7 بند پڑی ہیں۔ نیب نے کفایت شعاری مہم کے تحت 238 آسامیاں ختم کر کے 66 کروڑ روپے کا بجٹ قومی خزانے میں واپس کیا۔
سال 2025 میں نیب کے 58 فیصد کیسز میں ملزمان کو سزا دی گئی جبکہ 42 فیصد رہا ہو گئے۔ مستقبل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی سیل کو مزید فعال بنایا جائے گا اور کرپشن تحقیقات میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال کیا جائے گا تاکہ کارروائی تیز اور مؤثر ہو۔








