اہم ترین

ٹرمپ کا خواب ٹوٹ گیا: امن کا نوبیل انعام وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کے نام

ناروے کی نوبیل کمیٹی نے وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے فروغ کے لیے حزب اختلاف کی ماریا کورینا ماچاڈو کی خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام 2025 دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید خواہش تھی کہ انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے ان کا نام بھی نامزد کیا تھا۔ تاہم ان کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔ سال رواں کا امن کا نوبل انعام لاطینی امریکی ملک وینزویلا کی سرکردہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اوسلو میں ناروے کی نوبل کمیٹی کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وینیزویلا میں جمہوریت کی تحریک کی رہنما کی حیثیت سے ماریا کورینا ماچاڈو حالیہ دور میں لاطینی امریکا میں جرأت کی سب سے غیر معمولی مثالوں میں سے ایک ہیں۔

نوبل کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ گزشتہ برس ماچاڈو کو روپوشی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اپنی زندگی کو لاحق انتہائی سنجیدہ نوعیت کے کئی خطرات کے باوجود وہ اپنے وطن ہی میں مقیم رہیں، اور ان کے اس فیصلے سے وینزویلا کے لاکھوں شہریوں کو نیا حوصلہ ملا۔

ماریا کورینا ماچاڈو پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور صنعت کار ہیں۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سماجی خدمات سے کیا اور 1992 میں ’اٹینیا فاؤنڈیشن‘ نامی تنظیم قائم کی۔

ماچاڈو 2010 میں وینزویلا کی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور انہیں اس الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ تاہم 2014 میں حکومت نے انہیں اسمبلی سے نااہل قرار دے کر ان کا مینڈیٹ ختم کر دیا۔ اس کے باوجود انہوں نے آمریت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔2017 میں انہوں نے ’سوئے وینزویلا‘ نامی اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ملک میں جمہوری قوتوں کو متحد کرنا تھا۔

پاکستان