میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے 130 ممالک کی حسیناؤں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تنازعات کے باوجود مِس یونیورس 2025 کا تاج اپنے نام کیا، جبکہ تھائی لینڈ، وینیزویلا اور فلپائن رنر اپ رہیں
عالمی مقابلۂ حسن مِس یونیورس 2025 اس بار ڈرامائی موڑوں، غیر معمولی تنازعات اور حیرت انگیز لمحوں سے بھرپور رہا، مگر سب سے زیادہ توجہ جس شخصیت نے سمیٹی وہ میکسیکو کی باہمت حسیناء فاطمہ بوش تھیں، جنہوں نے تمام شور شرابا اور دباؤ کو مات دیتے ہوئے دنیا کی حسیناؤں میں پہلا مقام حاصل کرلیا۔
مقابلے کے آغاز میں ہی فاطمہ بوش مختلف اعتراضات کی زد میں رہیں، مگر سب سے بڑا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مِس تھائی لینڈ کے ڈائریکٹر نواٹ اتساراگرسل نے اسٹیج پر ان کی ذہانت کو چیلنج کرتے ہوئے سخت جملے کہہ دیے۔ ماحول کشیدہ ہوا تو فاطمہ نے فوری طور پر واک آؤٹ کردیا۔ حیران کن طور پر متعدد مقابلہ کار بھی ان کی حمایت میں اسٹیج چھوڑ گئیں، جس سے شو میں ایک تاریخی لمحہ سامنے آیا۔
اس تمام ہنگامہ آرائی کے باوجود فاطمہ بوش نے اپنی بھرپور کارکردگی سے ثابت کیا کہ قابلیت کسی تنقید کی محتاج نہیں۔ فائنل راؤنڈ میں ان کے پراعتماد جواب اور شاندار پیشکش نے ججز کو متاثر کر دیا۔
شاندار فائنل میں حسیناؤں نے شام کے دلفریب لباسوں میں ریمپ کی زینت بنیں۔ ٹاپ 12 کی فہرست میں میکسیکو، گواڈیلوپ، پیورٹو ریکو، چین، فلپائن، چِلی، کولمبیا، کیوبا، تھائی لینڈ، مالٹا، کوٹ ڈی آئیور اور وینیزویلا شامل رہیں۔
تھائی لینڈ کی پروینر سنگھ فرسٹ رنر اَپ جب کہ وینیزویلا اور فلپائن کی دوشیزائیں سیکنڈ اورتھرڈ رنراپ رہیں۔ بھارت کی نمائندگی کرنے والی منیکا وشواکُرما نے بہترین کوشش کے باوجود ٹاپ 12 میں جگہ نہ بنائی اور 30ویں راؤنڈ تک ہی پہنچ سکیں۔
مجموعی طور پر فاطمہ بوش کی کامیابی اس بات کی مثال بن گئی کہ بہادری، اعتماد اور صلاحیت مل کر ہر تنازع کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس سال کا مِس یونیورس مقابلہ شاید برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ صرف تاج کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ایک نوجوان لڑکی نے ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا انتخاب کیا اور فتح اپنا مقدر بنا لی۔











