اہم ترین

ایشیز کا دھماکے دار آغاز: پرتھ ٹیسٹ کے پہلے ہی دن 116 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

پرتھ میں شروع ہونے والی ایشیز ٹیسٹ سیریز کا پہلا دن ایسا تھا جیسے کسی تیز رفتار فلم کا ابتدائی سین — ہر منٹ میں ڈراما، ہر اوور میں تباہی! شروع میں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ 137 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے، لیکن اسٹارک اور اسٹوکس نے مل کر ایسا کہرام مچایا کہ دونوں ٹیموں کے بلے باز ہانپتے رہ گئے اور وکٹیں گرتی رہیں۔

میچ کی پہلی ہی گیندوں میں آسٹریلیا کے مشیل اسٹارک نے انگلینڈ کے سلامی بلے باز جیک کرالی کو ٹھکانے لگا دیا۔ لیکن یہ تو صرف ٹریلر تھا۔ اسٹارک نے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین گیندبازی کرتے ہوئے ایک اننگ میں 7 وکٹیں حاصل کیں اور انگلیش ٹیم کو صرف 172 پر سمیٹ دیا۔

اسی دوران انہوں نے ایشیز میں 100 وکٹیں مکمل کر کے تاریخ میں اپنا نام مزید جگمگا دیا۔

انگلینڈ نے جواب میں ایسی تیز رفتاری سے حملہ کیا کہ آسٹریلیا کے بلے باز سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔پہلے اوور میں ہی جوفرا آرچر نے ڈیبیو کرنے والے جیک ودھرالڈ کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو ہلا دیا۔

گس ایٹکنسن اور برائیڈن کارس کی شاندار لائن لینتھ نےآسٹریلین ٹاپ آرڈر کو سوکھا چھوڑ دیا ۔ پہلے 4 اوور میڈن اور پانچویں اوور کی چوتھی گیند پر جا کر آسٹریلیا نے کھاتہ کھولا۔

کارس نے اپنے دوسرے اسپیل میں یکے بعد دیگرے اسٹیو اسمتھ اور عثمان خواجہ کی وکٹیں اڑائیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکور بورڈ 4 وکٹوں پر 31 رنز ہو گیا۔

جب تھوڑا لگنے لگا کہ کیمرون گرین اور ٹریوس ہیڈ اننگ سنبھال لیں گے، تب منظر میں داخل ہوئے انگلش کپتان بین اسٹوکس۔

انہوں نے آتے ہی 5 وکٹیں ایسے توڑیں جیسے کسی نے لائٹس بند کر کے دوبارہ آن کر دیں — اور آسٹریلوی اننگ اندھیرے میں گم ہوگئی

دن کے اختتام تک آسٹریلیا 123 پر 9 وکٹیں گنوا کر بمشکل کھڑا تھا۔

پرتھ ٹیسٹ کے پہلے دن دونوں ٹیموں کی مجموعی 19 وکٹیں گریں جو ایشیز کی 137 سالہ تاریخ میں پہلے دن گرنے والی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

اس سے پہلے 1888، 1896 اور 1909 میں اولڈ ٹریفورڈ میں 19 وکٹیں پہلے دن گری تھیں۔116 سال بعد ایشیز کے کسی ٹیسٹ میں پہلے دن ایسا ہنگامہ خیز کھیل دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان