اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں کارروائی کرتے ہوئے ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو ہدف بنایا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کی سیاسی و عسکری سرگرمیوں کا مرکزی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
علاقے میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے سے چند لمحے قبل انہیں فضاء میں جنگی طیاروں کی گرج سنائی دی، جس کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور رہائشی اپنی عمارتوں سے باہر نکل آئے، کیونکہ انہیں مزید حملوں کا اندیشہ تھا۔
طبی حکام نے بتایا کہ حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ تقریباً دو درجن زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ حزب اللہ نے تاحال اس واقعے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
اسرائیلی اور لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کا اصل ہدف حزب اللہ کا سینئر فوجی کمانڈر علی طباطبائی تھا، تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ہلاک ہوا یا نہیں۔
امریکی حکام کے درمیان بھی اس حوالے سے متضاد معلومات سامنے آئی ہیں۔ ایک اہلکار نے کہا کہ اسرائیل نے حملے سے پہلے واشنگٹن کو مطلع نہیں کیا، جبکہ ایک اور امریکی افسر کے مطابق امریکہ کو کئی روز سے علم تھا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں بڑھانے والا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 2016 میں علی طباطبائی پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے حزب اللہ کا اہم عسکری رہنما قرار دیا تھا، اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔











