اہم ترین

امریکا دنیا بھر میں چین کا سب سے بڑا مقروض ملک

امریکی یونیورسٹی ولیم اینڈ میری کی ریسرچ لیب ایڈ ڈیٹا کی تازہ رپورٹ کے مطابق چین نے سن 2000 سے 2023 تک دنیا کے 200 ممالک کو مجموعی طور پر 2.2 ٹریلین ڈالر قرضوں اور گرانٹس کی شکل میں فراہم کیے۔ یہ تخمینہ سابقہ اندازوں سے دو سے چار گنا زیادہ ہے، اور چین دنیا کا سب سے بڑا سرکاری قرض فراہم کرنے والا ملک بن کر سامنے آیا ہے۔

جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو میں شائع رپورٹ کے مطابق چین کو طویل عرصے تک بیلٹ اینڈ روڈمنصوبے کے تحت ترقی پذیر ممالک کا بڑا قرض دہندہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی توجہ بتدریج ترقی یافتہ معیشتوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ بیجنگ اب اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر، اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور صاف توانائی جیسے جدید شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

کم آمدنی والے ممالک کے حصے میں آنے والے چینی قرضوں کا تناسب 2000 میں 88 فیصد تھا جو 2023 تک گھٹ کر صرف 12 فیصد رہ گیا۔ دوسری جانب درمیانی اور زیادہ آمدنی والے ممالک کا حصہ اسی عرصے میں 24 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد تک جا پہنچا۔

چین نے برطانیہ کو 60 ارب ڈالر اور یورپی یونین کے ممالک کو 161 ارب ڈالر کے قرضے بھی جاری کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ کا مالی اثر و رسوخ اب ترقی یافتہ خطوں تک وسیع ہو چکا ہے۔

ایڈ ڈیٹا کے مطابق سب سے زیادہ چینی سرکاری فنانسنگ امریکا کو ملی، جس نے 200 ارب ڈالر سے زائد رقم تقریباً 25 سو منصوبوں کے لیے حاصل کی۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ چینی سرکاری ادارے امریکا کے ہر شعبے اور ہر خطے میں سرگرم ہیں۔ ان کی فنانسنگ میں ٹیکساس اور لوئیزیانا کے ایل این جی منصوبے, شمالی ورجینیا کے ڈیٹا سینٹرز, اور نیویارک کے جے ایف کے اور لاس اینجلس کے انٹرنیشنل ایئرپورٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میٹرہارن ایکسپریس گیس پائپ لائن اور ڈکوٹا ایکسیس آئل پائپ لائن بھی چینی فنڈنگ سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔

بیجنگ نے نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی خریداری میں سرمایہ فراہم کیا بلکہ چینی قرض دہندگان نے ایمازون، اے ٹی اینڈ ٹی، ورائیزن، ٹیسلا، جنرل موٹرز، فورڈ، بوئنگ اور ڈزنی سمیت درجنوں بڑی امریکی کمپنیوں کو بھی کریڈٹ سہولیات دیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیر کے لیے چین نے ایک ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دی۔

چینی وزارتِ خارجہ نے رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ چین کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور فنانسنگ بین الاقوامی قوانین، مارکیٹ اصولوں اور پائیدار قرض کے تقاضوں کے مطابق کی جاتی ہے۔

پاکستان