ایک نئی تحقیق کے مطابق دوران حمل ماں کی خلاف معمول خوش خوراکی یا کھانے سے رغبت ختم ہوجانے (ایٹنگ ڈس آرڈر) سے بچوں میں دمے یا دیگر سانس کی بیامریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
تھوریکس نامی بین الاقوامی طبی جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو کھانے کے مسائل یا ایٹنگ ڈس آرڈرز کا شکار ہوتی ہیں، ان کے بچے اسکول کی عمر میں دمہ یا پری اسکول میں سانس کی خرابی کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ اطالوی یونیورسٹی آف ٹورین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں میں ایٹنگ ڈس آرڈر بچوں میں دمہ کے خطرے کو تقریباً 26 فیصد اور ابتدائی عمر میں سانس کے مسائل کے خطرے کو 25 فیصد بڑھا دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹنگ ڈس آرڈرز کی جانچ کو قبل از پیدائش طبی سہولیات کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ بچوں کی سانس کی صحت بہتر ہو سکے۔
تحقیق کے سربراہ ماجا پاپووک نے کہا کہ ماں کے ایٹنگ ڈس آرڈرز کو ابتدائی زندگی میں سانس کی بیماریوں کے خطرات کے مطالعے میں شامل کرنا ضروری ہے اور انہیں ماں کی صحت کی دیکھ بھال میں شامل کر کے بچوں کے بہتر سانس کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تحقیق میں یورپ کے 7 سابقہ مطالعات کے ڈیٹا کو جمع کر کے تقریباً ایک لاکھ 31 ہزار 500 ماؤں یا بچوں کے جوڑوں کا تجزیہ کیا گیا۔
ان مطالعات کے مطابق جن خواتین میں ایٹنگ ڈس آرڈر کی شرح 1فیصد سے 17 فیصد تک تھی، جبکہ بچوں میں اسکول کی عمر میں دمہ 2فیصد سے 18فیصد تک اور پری اسکول میں ویژنگ 21فیصد سے 50فیصد تک پائی گئی۔
اگرچہ تحقیق اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ ایٹنگ ڈس آرڈر براہِ راست بچوں میں دمہ کا سبب بنتا ہے، لیکن محققین کا خیال ہے کہ ماں کے ذہنی دباؤ اور ایٹنگ ڈس آرڈر جنین کے پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ پہلے بھی یہ مسئلہ کم وزن یا قبل از وقت پیدائش کے ساتھ منسلک رہا ہے۔











