اہم ترین

ایبٹ کے لاکھوں گلوکو سینسرز میں سنگین خرابی: کروڑوں زندگیوں کو خطرہ

امریکا میں غذا اور دوا کے ادارے فیڈرل ڈرگ ایجنسی (ایف ڈی اے) نے خبردار کیا ہے کہ خون میں شوگر کی مقدارجاننے کے لئے معروف کمپنی ایبٹ کے دو گلوکو مانیٹرز کی 30 لاکھ سے زائد مشینوں میں خون میں شوگر کے غلط نتائج کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔۔

ایف ڈی اے کے مطابق ایبٹ کے فری اسٹائل لیبرے3 اور فری اسٹائل لیبرے 3 پرو نامی گلوکو مانیٹرز میں غلط نتائج کے باعث اب تک دنیا بھر میں کم از کم سات ہلاکتیں اور 700 سے زائد سنگین چوٹوں کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ جن میں سے تقریباً 60 واقعات امریکہ میں ہوئے، تاہم کوئی بھی ہلاکت امریکی کیسز میں نہیں ہوئی۔

امریکی ڈرگ ایجنسی نے کہا ہے کہ صارفین فوری طور پر چیک کریں کہ آیا ان کا سینسر متاثر ہے اور متاثرہ سینسر کا استعمال بند کر کے اسے ضائع کر دیں۔ غلط ریڈنگز کی وجہ سے کسی شخص کو لگ سکتا ہے کہ خون میں شوگر کم ہے، جس کے باعث وہ زیادہ کاربوہائیڈریٹ کھا سکتے ہیں یا انسولین کی خوراک کم کر سکتے ہیں، جو صحت کے لیے شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایبٹ نے کہا کہ مسئلہ پیداوار کے دوران ایک خامی کی وجہ سے ہوا تھا، مگر اب اسے حل کر دیا گیا ہے اور متبادل ڈیوائسز کی فراہمی میں کوئی بڑی رکاوٹ متوقع نہیں۔

دنیا بھرمیں کروڑوں لوگ شوگر کے مریض ہیں۔ صرف امریکا میں ہی تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ لوگ ذیابیطس کا شکار سے ہیں، اور یہ ڈیوائسز لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں خون میں شوگر کے انتظام کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

پاکستان