دنیا بھر میں اس وقت تیز رفتار ترقی کی وجہ بننے والی ٹیکنالوجی میں اس وقت سب سے زیادہ چرچا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا ہے۔ انٹرنیٹ پر سوالات کے جواب دینا ہو، ای میل تیار کرنا ہو، نوٹس بنانا ہوں، یا ویڈیو ایڈیٹنگ—ہر جگہ اے آئی کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ اسے اب سیکیورٹی سسٹمز میں بھی انٹیگریٹ کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اے آئی نہ صرف تیزی سے سیکھ رہا ہے بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار یہ بحث جنم لے رہی ہے کہ کیا آنے والے وقت میں اے آئی انسانوں کی جگہ لے لے گا؟ اگرچہ اس سوال کا واضح جواب ابھی موجود نہیں، لیکن Openاے آئی کے ایک ماہر نے کچھ پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چند شعبوں کی نوکریاں سب سے پہلے متاثر ہوں گی۔
بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق، پوڈ کاسٹ ان سپروائزڈ لرننگ میں اوپن اے آئی کے بزنس پراڈکٹس کے سربراہ اولیویئر گوڈیمن نے کہا ہے کہ تین شعبے کوڈنگ ، کَسٹمر سروس اور لائف سائنسز بہت جلد اے آئی آٹومیشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
گوڈیمن کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں اے آئی بہت تیزی سے شامل ہو رہا ہے اور ورک فلو کو مکمل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔
لائف سائنسز اور میڈیسن کے شعبے میں انتظامی اور دستاویزی کام پہلے ہی اے آئی کے حوالے ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جدید اے آئی ماڈلز ڈیٹا کو سمجھنے، کمپریس کرنے اور اینالائز کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے نئی دواؤں کی ریسرچ اور مارکیٹ تک رسائی کا وقت حیرت انگیز طور پر کم ہو سکتا ہے۔
اسی طرح کوڈنگ کے لیے نئے ڈیولپر ٹولز بہت اسمارٹ ہو گئے ہیں، جبکہ کمپنیاں اے آئی بیسڈ کسٹمر سروس ماڈلز پر تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ مستقبل میں کال سینٹرز، پیرالیگل سپورٹ اور بنیادی کَسٹمر سروس کی نوکریاں نمایاں حد تک کم ہو سکتی ہیں۔
اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ صحت، فنانس، دفاع، تعلیم اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں اے آئی انسانوں کے کردار کو مسلسل محدود کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اے آئی نے خود کو مزید ترقی دینا سیکھ لیا تو آنے والے چند دہائیوں میں کئی کاموں میں انسان کی ضرورت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔











