امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جو ان کی حکومت کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 150 فیصد زیادہ ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار طلبہ اور 2 ہزار 500 خصوصی مہارت رکھنے والے ورکرز شامل ہیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ اکثریت کے ویزے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مبینہ مجرمانہ معاملات کے باعث منسوخ کیے گئے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان معاملات میں باقاعدہ الزامات بھی عائد ہوئے یا نہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں اب تک 25 لاکھ سے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑا یا انہیں ڈی پورٹ کیا گیا، جسے حکومت نے ’’ریکارڈ توڑ کامیابی‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کارروائیوں میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس درست اور فعال ویزے موجود تھے، جس پر قانونی عمل اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے ویزا اجرا کے عمل کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا ویٹنگ اور اضافی اسکریننگ متعارف کرا دی ہے۔ نائب ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق ویزا منسوخی کی چار بڑی وجوہات میں ویزے کی مدت سے زائد قیام، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، تشدد اور چوری شامل ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک کنٹینیوس ویٹنگ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکا میں موجود تمام غیر ملکی امریکی قوانین کی پابندی کریں، جبکہ خطرہ بننے والے افراد کے ویزے فوری طور پر منسوخ کیے جا سکیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا ہے کہ وہ ایسے ویزا ہولڈرز کو نشانہ بنا رہی ہے جو حکومت سے اختلافی نظریات رکھتے ہیں۔ مارچ میں فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے، جن میں ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ رومیسہ اوزترک بھی شامل تھیں، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک مضمون لکھا تھا۔
اکتوبر میں چھ غیر ملکیوں کے ویزے اس بنیاد پر منسوخ کیے گئے کہ انہوں نے ایک امریکی قدامت پسند کارکن کے قتل پر آن لائن خوشی کا اظہار کیا تھا۔ محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا ان غیر ملکیوں کی میزبانی کا پابند نہیں جو امریکیوں کی موت کی خواہش رکھتے ہوں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔











