اہم ترین

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی: پی ٹی اے نے لائسنس کے لیے سخت شرائط عائد کر دیں

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کے حوالے سے اہم شرائط جاری کر دی ہیں، جن کے تحت فائیو جی لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے سروس، صارفین کے حقوق اور ڈیٹا تحفظ سے متعلق ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی فروری 2026 کے آخر تک متوقع ہے۔

پی ٹی اے کی دستاویزات کے مطابق فائیو جی سروس کے ٹیرف کو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشنز 2009 سے مشروط کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کو غیر منصفانہ نرخوں اور استحصال سے محفوظ رکھنا ہے۔ فائیو جی سروسز کے لیے جارحانہ یا غیر مسابقتی ٹیرف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ صارفین کی کمیونیکیشن کی رازداری اور ڈیٹا کا تحفظ فائیو جی لائسنس کی لازمی شرط ہوگا۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو قانونی تقاضوں کے مطابق نگرانی کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا، تاہم صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی لائسنس یافتہ کمپنیوں کو ایمرجنسی سروسز کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ سروس کے معیار اور دستیابی میں صارفین کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیاز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پی ٹی اے نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ نمایاں مارکیٹ پاور رکھنے والی کمپنیوں کے ٹیرف کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار اتھارٹی کے پاس ہوگا تاکہ مسابقتی ماحول برقرار رکھا جا سکے اور صارفین کو ریلیف مل سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ تمام فائیو جی آپریٹرز کو پی ٹی اے کے مقررہ کوالٹی آف سروس معیارات پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا۔ نیٹ ورک کوریج اہداف کے حصول کے لیے کارکردگی بینک گارنٹی جمع کرانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کی دستاویزات کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس پر اور 4جی اور 5 جی نیٹ ورک کی کوریج میپس فراہم کرنا ہوں گے تاکہ صارفین کو سروس کی دستیابی سے متعلق بروقت اور درست معلومات مل سکیں۔

اس کے علاوہ فائیو جی لائسنس یافتہ کمپنیوں کو مقامی موبائل اور ٹیلی کام آلات کی تیاری اور فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے، جس سے ملکی صنعت کو تقویت ملنے اور درآمدات پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان