آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)اب صرف دفاتر، فیکٹریوں یا مشینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے انسانی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ مائیکروسافٹ کے اے آئی چیف اور معروف ماہرِ اے آئی مصطفیٰ سلیمان کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ہر انسان کے پاس اپنا ایک ذاتی اے آئی دوست یا کمپینین ہوگا جو اسے گہرائی سے سمجھے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ مستقبل کا اے آئی محض احکامات پر چلنے والی مشین نہیں ہوگا، بلکہ یہ صارف کی عادات، پسند ناپسند اور سوچ کو سمجھنے کی صلاحیت رکھے گا۔ ان کے مطابق یہ اے آئی وہی دیکھے گا جو صارف دیکھتا ہے، وہی سنے گا جو صارف سنتا ہے اور حالات کو اسی زاویے سے سمجھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا اے آئی ایک ایسے دوست یا معاون کی طرح محسوس ہوگا جو زندگی کے اہم فیصلوں اور مشکلات میں انسان کا ساتھ دے گا۔
مصطفیٰ سلیمان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے اسے مستقبل کی انقلابی تبدیلی قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے حد سے زیادہ پرامید دعویٰ کہا۔
کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر اس میں پانچ سال لگیں گے تو یہ رفتار سست ہے، جبکہ کئی صارفین کے مطابق یہ تبدیلی اس سے بھی پہلے آ سکتی ہے۔
مائیکروسافٹ سے قبل مصطفیٰ سلیمان انفلیکشن اے آئی کے شریک بانی رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے پائی نامی ایک منفرد اے آئی چیٹ بوٹ تیار کیا تھا۔ پائی کو ایک جذباتی طور پر سمجھدار اے آئی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کا مقصد صارفین سے قدرتی انداز میں گفتگو کرنا اور انہیں جذباتی سہارا فراہم کرنا تھا۔
یہ چیٹ بوٹ تکنیکی جوابات کے بجائے انسانی مکالمے پر زیادہ توجہ دیتا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لاکھوں یومیہ صارفین بن گئے۔ بعد ازاں 2024 میں پائی کی ٹیم کا بڑا حصہ مائیکروسافٹ میں شامل ہو گیا۔
مصطفیٰ سلیمان طویل عرصے سے ایسے اے آئی کی وکالت کرتے آ رہے ہیں جو انسانی اقدار کے مطابق کام کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ مستقبل میں بننے والی انتہائی طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی کو واضح حدود اور کنٹرول کے تحت تیار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ انسانوں کی قابلِ اعتماد ساتھی بن سکے۔











