اہم ترین

شوگر کا خطرہ پہلے سے جانیں: اے آئی ٹیکنالوجی نے روایتی ٹیسٹ کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکی ماہرین نے ذیابطیس کی نشاندہی کے لئے دو نئے طریقے ایجاد کئے ہیں جو جو روایتی ٹیسٹ سے بہتر پیشگوئی کر سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ دونوں طریقے ابتدائی تشخیص اور مؤثر روک تھام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں تقریباً ہر 9 میں سے ایک بالغ شخص ذیابطیس (شوگر) کا شکار ہے، اور ان میں 90 فیصد سے زیادہ ٹائپ 2 شوگر کے کیسز ہیں۔ لیکن یہ بیماری اکثر خاموشی سے بڑھتی ہے، جس کی وجہ سے وقت پر تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔

اب سائنسدانوں نے دو نئے طریقے پیش کیے ہیں جو ڈائبیٹیز کے خطرے کی بہتر پیشگوئی کر سکتے ہیں:

اے آئی ماڈل (گلو فورمر)

یہ ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) پلیٹ فارم ہے، جو مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ (سی جی ایم) کے ڈیٹا سے منسلک ہے۔ یہ تقریباً 11 ہزار بالغ افراد کے ایک کروڑ سے زائد گلوکوز میجرمنٹس سے ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے 580 افراد پر کیے گئے مطالعے میں یہ اے آئی ماڈل روایتی ایچ بی اے 1 سی ٹیسٹ سے بہتر طور پر یہ شناخت کر سکا کہ کون لوگ مستقبل میں ڈائبیٹیز یا دل کی بیماری کے خطرے میں ہیں۔ سب سے زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل 66 فیصد افراد بعد میں ذیابطیس کا شکار ہوئے۔ دل کی بیماری سے مرنے والے 69 فیصد افراد بھی اسی ہائی رسک گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

یہ ماڈل پری ڈائبیٹیز والے افراد کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جو مستقبل میں ایچ بی اے 1 سی میں زیادہ اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔

خون کے چھوٹے مالیکیولز (میٹا بولیٹکس):

دوسرے مطالعے میں محققین نے خون میں موجود چھوٹے مالیکیولز کی نشاندہی کی، جو ڈائبیٹیز کے خطرے کی پیشگوئی کر سکتے ہیں، اس سے پہلے کہ خون میں شوگر کے لیولز زیادہ بڑھیں۔

یہ مالیکیولز جسم میں توانائی، چربی اور گلوکوز کے عمل کی ابتدائی خرابی کی عکاسی کرتے ہیں، اور ان کا تجزیہ کرنے سے ڈاکٹرز مستقبل میں ڈائبیٹیز کے خطرے والے افراد کو جلد شناخت کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا کہ یہ اے آئی اپلیکیشن ہمارے موجودہ ٹولز سے زیادہ درست پیشگوئی فراہم کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بہتر پیشگوئی سے مریض صحت مند عادات اپنائیں گے اور علاج کریں گے؟

ان کے مطابق یہ تحقیق صرف خطرے کی نشاندہی نہیں بلکہ ڈائبیٹیز کے میکانزم کو سمجھنے اور نئے علاج تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان