اہم ترین

سردی نے چاند کا انسانی سفر روک دیا! ناسا کا مون مشن مؤخر

امریکی خلائی ادارے ناسا نے شدید سرد موسم کے باعث چاند کے لیے متوقع انسانی مشن کی لانچ تاریخ مؤخر کر دی ہے۔ ناسا کے مطابق فلوریڈا کے کیپ کیناویرل لانچ پیڈ پر منجمد درجۂ حرارت کی پیش گوئی کے بعد لانچ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اب چاند مشن کی ابتدائی ممکنہ تاریخ 8 فروری ہو گی، جو پہلے سے طے شدہ شیڈول سے دو دن بعد ہے۔

ناسا اس ہفتے کے اختتام پر اپنے 322 فٹ بلند (98 میٹر) راکٹ پر اہم فیولنگ ٹیسٹ کرنے والا تھا، تاہم امریکا کے بیشتر حصوں میں شدید سرد لہر اور آرکٹک ہواؤں کے باعث یہ منصوبہ روک دیا گیا۔

فلوریڈا، جو عموماً گرم اور دھوپ والا رہتا ہے، اس بار دہائیوں کی شدید ترین سردی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جہاں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔

ناسا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ متوقع موسمی حالات لانچ کے تقاضوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

محکمۂ خلائی آپریشنز کے مطابق اگر موسم سازگار رہا تو پیر کے روز حتمی ٹیسٹس کیے جائیں گے، جس کے بعد نئی لانچ تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

لانچ میں تاخیر کے باعث فروری میں آرٹیمس ٹو مشن کے لیے صرف تین ممکنہ لانچ ونڈوز باقی رہ گئی ہیں۔ یہ مشن چار خلابازوں کو چاند کے گرد تاریخی فلائی بائی پر لے جائے گا۔ خلاباز اس وقت ہیوسٹن میں قرنطینہ میں موجود ہیں۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اورائن کیپسول پر خصوصی ہیٹر نصب ہیں تاکہ شدید سردی میں خلائی گاڑی کو محفوظ رکھا جا سکے، جبکہ اضافی نظام بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔

اسی دوران ناسا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے ایک اور عملے کی روانگی کی تیاری بھی کر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر 11 فروری کو ہو سکتی ہے، تاہم آرٹیمس مشن کے باعث اس میں بھی رد و بدل کا امکان ہے۔

ناسا عہدیدار کین باورسوکس کے مطابق ہم دونوں مشنز کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کسی بڑے تصادم سے بچنا اولین ترجیح ہے۔

پاکستان