ٹوکیو: جاپان نے کہا ہے کہ وہ اس وقت آبنائے ہرمز میں سمندری سکیورٹی آپریشن شروع کرنے پر غور نہیں کر رہا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ اہم بحری راستے میں تیل بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
جاپانی وزیر دفاع شن جیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ موجودہ ایران کی صورتحال کے تناظر میں جاپان اس وقت کسی سمندری سکیورٹی آپریشن کے اجرا پر غور نہیں کر رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز جاپان سمیت دیگر ممالک سے اضافی بحری کمک بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا شروع کر دے گی۔
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ قانونی طور پر اس نوعیت کا سمندری سکیورٹی آپریشن شروع کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
جاپان میں خود دفاعی افواج کو بیرون ملک بھیجنا ایک حساس سیاسی معاملہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کا 1947 کا آئین جنگ سے دستبرداری کی پالیسی پر مبنی ہے۔
حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے پالیسی سربراہ تاکایوکی کوبایاشی نے بھی کہا ہے کہ جاپان کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی حد انتہائی بلند ہے۔
واضح رہے کہ جاپان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور تیل درآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، جس کی تقریباً 95 فیصد تیل کی ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے پوری ہوتی ہیں جبکہ اس کا تقریباً 70 فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگی کشیدگی کے بعد جوابی اقدام کے طور پر آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔









