جاپان میں ہر سال اربوں استعمال شدہ ڈائپرز یا تو زمین میں دفن کر دیے جاتے ہیں یا جلا دیے جاتے ہیں، تاہم اب ایک انقلابی ری سائیکلنگ منصوبے نے ان گندے ڈائپرز کو نئی زندگی دینے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
جاپانی کمپنی یونیچارم نے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت استعمال شدہ ڈائپرز کے بنیادی اجزاء کو دوبارہ استعمال کر کے نئے ڈائپرز تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف لینڈفل سائٹس پر دباؤ کم ہوگا بلکہ جاپان میں بڑھتی عمر کی آبادی کے باعث بالغ افراد کے ڈائپرز کی بڑھتی طلب کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔
کمپنی کے صدر تاکاہیسا تاکاہارا کے مطابق بچوں کے ڈائپرز کی طلب میں کمی آ رہی ہے، جبکہ بزرگ افراد، حتیٰ کہ پالتو جانوروں کے لیے بھی ڈائپرز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صارفین میں استعمال شدہ اشیاء کے حوالے سے احساسِ جرم کو مثبت رجحان میں بدلا جائے تو ری سائیکلنگ کو عام کیا جا سکتا ہے۔
یہ منصوبہ جاپان کے جنوبی علاقوں شیبوشی اور اوساکی میں آزمایا جا رہا ہے، جہاں تقریباً 40 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں اور یہ علاقے گھریلو کچرے کا 80 فیصد تک ری سائیکل کرتے ہیں، جو جاپان کے اوسط سے چار گنا زیادہ ہے۔ ان شہروں نے تقریباً 25 سال قبل اپنے کچرے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے، جس کے باعث ان کا لینڈفل مزید 40 سال تک قابلِ استعمال رہے گا۔
اس منصوبے کے تحت جمع کیے گئے ڈائپرز کو پہلے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے، پھر دھو کر انہیں مختلف اجزاء جیسے پلپ، پلاسٹک اور سپر ایبزاربنٹ پولیمر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں اوزون ٹریٹمنٹ کے ذریعے انہیں جراثیم سے پاک، سفید اور بدبو سے پاک کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر ان مواد کو ٹوائلٹ پیپر جیسے کم حساس مصنوعات میں استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم اب کمپنی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈائپر کے بنیادی جزو “پلپ” کو دوبارہ ڈائپر بنانے میں بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ 2028 تک پلاسٹک اور دیگر اجزاء کو بھی مکمل طور پر نئے ڈائپرز میں استعمال کیا جا سکے۔
فی الحال یہ ری سائیکل شدہ مصنوعات محدود مقامی اسٹورز میں دستیاب ہیں اور ان کی قیمت عام مصنوعات کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے، جبکہ کچھ مصنوعات بچوں اور بزرگوں کے مراکز میں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں ری سائیکلنگ کی مجموعی شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے، جو جرمنی، یوکے اور امریکا کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم جاپان میں فی کس کچرا پیدا ہونے کی شرح نسبتاً کم ہے اور ملک کچرے کو جلا کر توانائی پیدا کرنے میں بھی نمایاں کارکردگی رکھتا ہے۔
جاپان، جہاں ایک لاکھ کے قریب افراد کی عمر 100 سال سے زائد ہے، ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کا حامل ملک ہے۔ 2024 میں جاپان میں بالغ افراد کے لیے 9.6 ارب ڈائپرز تیار کیے گئے، جبکہ بچوں کے لیے یہ تعداد 8 ارب رہی۔










